نئی دہلی:بھارتی وزیراعظم نریندرمودی پاکستان سے جنگ میں عبرت ناک شکست پرعوام میں پائی جانے والی مایوسی کو ختم کرنےکی کوشش کے تحت نام نہاد ’’آپریشن سندور‘‘ سے متعلق بلندوبانگ دعوے کرنے لگے،اس آپریشن کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ’’ٹرننگ پوائنٹ ‘‘قرادے دیا۔ماہانہ ریڈیوپروگرام’’من کی بات‘‘میں نریندرمودی نے کہاکہ آپریشن سندور کی کامیابی کا سہرا بھارت کی اس مقامی دفاعی صلاحیتوں کو دیا، جو ‘ خود انحصاری کے جذبے کے تحت پروان چڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے فوجیوں کی حتمی بہادری تھی، جسے بھارت میں تیار کردہ ہتھیاروں، سازوسامان، اور ٹیکنالوجی کی طاقت نے سہارا دیا۔ حقاق سے پردہ پوشی کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ‘آپریشن سندور بھارت کے عزم اور حوصلے کا عکس ہےاس آپریشن نے قوم میں حب الوطنی کا جذبہ بھر دیا ہے اور ملک کو ترنگے کے رنگ میں رنگ دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ آپریشن سندور محض ایک فوجی مشن نہیں بلکہ یہ ہمارے عزم، حوصلے اور ایک بدلتے ہوئے بھارت کی تصویر ہے۔ نریندر مودی نے ‘آپریشن سندور کے دوران تباہ کیے گئے نام نہاد دہشت گرد کیمپوں کی تصاویربھی دکھائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے طول و عرض میں ایسی ریلیاں نکالی گئیں جن میں ہر طرف انڈین جھنڈے لہرا رہے تھے۔ شہروں، دیہاتوں اور قصبوں سے ہزاروں لوگ ہاتھوں میں انڈیا کا ترنگا لیے اپنے سپاہیوں کی تعظیم اور وطن سے محبت کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، مودی نے کہا کہ چنڈی گڑھ جیسے شہروں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سول ڈیفنس والنٹیئر بننے کا فیصلہ کیا۔ سوشل میڈیا پر ملی نغمے گونجنے لگے، نظمیں لکھی گئیں ’بیس دن پہلے جب میں بیکانیر گیا تو وہاں بچوں نے مجھے ایک دل کو چھو لینے والی پینٹنگ تحفے میں دی جو اُن کے جذبے کا آئینہ تھی۔‘
مودی نے کہا کہ آپریشن سندور کی گونج صرف خبروں تک محدود نہ رہی، بلکہ کئی خاندانوں نے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔ بہار کے کٹیہار، یوپی کے کشی نگر اور دیگر شہروں میں جن بچوں کی پیدائش اس دوران ہوئی، ان کے نام ’سندور‘ رکھے گئے یہ محض نام نہیں، بلکہ فخر اور محبت کا اظہار ہے۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہمارے جوانوں کی بہادری کا ثبوت ہے لیکن یہ بھی یاد رکھیے کہ اس میں انڈیا میں تیار کردہ ہتھیاروں، آلات اور جدید ٹیکنالوجی کا اہم کردار تھا۔ یہ ہمارے انجینئرز، سائنس دانوں اور محنت کشوں کی برسوں کی محنت اور لگن کا نتیجہ تھا ’یہ ہے ’آتم نربھر بھارت‘ (خودانحصار انڈیا) کی زندہ مثال۔
مودی نے مزید کہا کہ اسی جذبے نے ’ووکل فار لوکل‘ کی مہم کو ایک نئی روح دی ہے۔ کئی مثالیں دل کو چھو جاتی ہیں۔ ایک جوڑے نے کہا کہ اب وہ اپنے بچوں کے لیے صرف انڈیا میں بنے کھلونے ہی خریدیں گے تاکہ حب الوطنی کا جذبہ بچپن سے پروان چڑھے۔ کچھ خاندانوں نے تہیہ کیا ہے کہ اپنی اگلی چھٹیاں انڈیا کے کسی خوبصورت گوشے میں گزاریں گے۔ کئی نوجوانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ’میڈ اِن انڈیا‘ شادی کریں گے یعنی شادی، شاپنگ اور تقریب کے ہر پہلو میں انڈیا کے مقامی ہنر کو ترجیح دیں گے۔ کچھ افراد نے کہا کہ اب وہ جو بھی تحفہ دیں گے، وہ کسی انڈین ہنر مند کے ہاتھوں کا بنا ہوگا۔‘
مودی نے کہا کہ یہی ہے انڈیا کی اصل طاقت، عوام کی شمولیت، اُن کا جذبہ، اُن کا فخر۔ آیئے، آج ہم سب ایک عہد کریں: ’جہاں جہاں ممکن ہو، ہم انڈیا میں بنی اشیا کو ترجیح دیں گے۔ یہ صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں، بلکہ قومی تعمیر میں شرکت کا جذبہ ہے۔ ہمارا ایک چھوٹا سا قدم، انڈیا کی ترقی کی راہوں کو مضبوط بنا سکتا ہے۔‘
آپریشن سندور دہشتگردی کیخلاف عالمی جنگ میں ’’ٹرننگ پوائنٹ ‘‘ مودی کی بھارتی عوام کو مطمئن کرنیکی کوشش








