بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نائن الیون ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کیخلاف 27 سال بعد مقدمے کی سماعت کا فیصلہ

11 ستمبر 2001 کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمے کی سماعت ایک بار پھر مؤخر کر دی گئی ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی فوجی جج نے مقدمے کی نئی تاریخ 5 جون 2028 مقرر کر دی ہے، نئی تاریخ حملوں کے تقریباً 27 سال بعد اور خالد شیخ محمد اور ان کے شریک ملزمان کی پہلی مرتبہ فردِ جرم عائد کیے جانے کے تقریباً 20 سال بعد مقرر کی گئی ہے۔

مقدمے کی نگرانی کرنے والے امریکی فضائیہ کے لیفٹیننٹ کرنل مائیکل شراما نے بدھ کو نئی تاریخ مقرر کی۔ فوجی عدالت کے جج نے پراسیکیوشن کی جانب سے 2027 میں ٹرائل شروع کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

خالد شیخ محمد نے اس سے قبل اعتراف جرم کے بدلے سزائے موت سے بچنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، تاہم گزشتہ موسم گرما میں وفاقی اپیل عدالت نے یہ معاہدہ مسترد کر دیا تھا۔ معاہدے کے تحت خالد شیخ محمد کو بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا دی جانی تھی۔

خالد شیخ محمد کو 2003 میں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ستمبر 2006 سے گوانتاناموبے جیل میں قید ہیں۔ وہ اس سے قبل بیان دے چکے ہیں کہ انہوں نے 2001 کے 9/11 حملوں کی منصوبہ بندی ابتدا سے آخر تک خود کی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق خالد شیخ محمد پر الزام ہے کہ انہوں نے مسافر طیارے اڑانے کی تربیت دینے اور انہیں عمارتوں سے ٹکرانے کا منصوبہ تیار کیا اور یہ منصوبہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے سامنے پیش کیا۔

خالد شیخ محمد کے ساتھ تین شریک ملزمان ولید بن عطاش، علی عبدالعزیز علی اور مصطفیٰ احمد الحوساوی بھی گوانتاناموبے جیل میں امریکی فوجی کمیشن کے تحت مقدمے کا سامنا کریں گے۔ ان چاروں افراد پر نائن الیون کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے، جن میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ملزمان کیخلاف مقدمے کی کارروائی شواہد، قانونی طریقہ کار اور خفیہ سی آئی اے حراستی مراکز میں ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے متعلق طویل قانونی تنازعات کے باعث پیچیدگی کا شکار رہی ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس مقدمے کی سماعت کئی مرتبہ مؤخر ہو چکی ہے۔ اہم ترین معاملات میں سے ایک یہ ہے کہ آیا سی آئی اے کی تحویل کے دوران ملزمان سے حاصل کیے گئے شواہد عدالت میں قابلِ قبول ہوں گے یا نہیں، خصوصاً اس لیے کہ ملزمان کو مبینہ طور پر سخت تفتیشی طریقوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پراسیکیوٹرز اور دفاعی وکلا کے درمیان بار بار ہونے والے اختلافات، مقدمے کے شیڈول میں تبدیلیوں اور امریکی فوجی کمیشن کے نظام کو درپیش قانونی چیلنجز کے باعث بھی کارروائی سست روی کا شکار رہی۔

ایگزیوس کے مطابق مقدمے کی نئی تاریخ مقرر کرنا متعدد امریکی حکومتوں کے ادوار سے جاری اس کارروائی کے لیے ایک مرتبہ پھر باقاعدہ ٹائم لائن طے کرنے کی کوشش ہے۔

اگر مقدمہ مقررہ تاریخ پر شروع ہوتا ہے تو 11 ستمبر کے حملوں اور ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی کے آغاز کے درمیان تقریباً 27 سال کا عرصہ گزر چکا ہو گا۔

11 ستمبر 2001 کو القاعدہ کے 19 ارکان نے امریکا میں مربوط حملوں کے دوران چار مسافر طیاروں کو اغوا کیا۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے، جس کے نتیجے میں جڑواں ٹاورز منہدم ہو گئے۔

مزید پرھیں:اینٹی ڈوپنگ قوانین کیخلاف ورزی، یو اے ای کے کرکٹر آصف خان پر پابندی عائد

تیسرا طیارہ ریاست ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں واقع پینٹاگون سے جا ٹکرایا۔ چوتھا طیارہ، یونائیٹڈ فلائٹ 93، پنسلوانیا کے شہر شنکس وِل کے قریب ایک کھلے میدان میں گر کر تباہ ہوا۔ یہ طیارہ اس وقت گر کر تباہ ہوا جب مسافروں نے ہائی جیکرز پر قابو پانے کی کوشش کی۔