بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے معرکہ حق میں عبرت ناک شکست پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ بڑھک لگائی ہے کہ ہم نے ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں ،پاکستان میں پہلے ہی پسینے چھوٹ گئے۔
گاندھی نگر میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہاکہ میں نئی نسل کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کو کس طرح تباہ کیا گیا۔ اگر آپ 1960 کے سندھ طاس معاہد ےکا جائزہ لیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ اس میں طے کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کی ندیوں پر بننے والے ڈیموں کی صفائی نہیں کی جائے گی۔ ان میں سے سلٹ (تلچھٹ) نہیں نکالی جائے گی، نچلے دروازے جو تلچھٹ نکالنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، انہیں بند ہی رکھا جائے گا۔ 60 سال تک یہ دروازے کبھی نہیں کھولے گئے جن ذخائر کو 100 فیصد گنجائش تک بھرنا تھا، وہ اب صرف 2 یا 3 فیصد پر رہ گئے ہیں ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے ابھی تک کوئی سخت فیصلہ نہیں کیا، لیکن پڑوس میں لوگ پسینہ پسینہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی میں نے کچھ نہیں کیا اور وہاں (پاکستان) لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہیں ہم نے صرف ڈیموں کی صفائی کے لیے چھوٹے دروازے کھولے ہیں اور وہاں پہلے ہی سیلاب آ گیا ہے۔جنگی جنون میں مبتلا نریندرمودی نے عوام کو گمراہ کرتے ہوئے ہرزہ سرائی کی کہ پاکستان نے ان دہشت گردوں کو ریاستی اعزازات دیے جو بھارت فضائی حملوں میں نشانہ بنے ان کے تابوتوں پر پاکستان کے جھنڈے لگائے گئے اور ان کی فوج نے انہیں سلامی دی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیاں ان کی باقاعدہ جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں آپ پہلے ہی حالت جنگ میں ہیں اور آپ کو اس کا جواب اسی انداز میں دیا جائے گا ساتھ ہی انہوں نے یہ راگ بھی الاپ دیاکہ ہم کسی سے دشمنی نہیں چاہتے ہم پُرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا کی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کر سکیں
ہم نے ابھی تو کچھ کیا ہی نہیں ، پاکستانیوں کے پہلے ہی پسینے چھوٹ گئے،نریندمودی کی نئی بڑھک








