بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایس سی او کانفرنس کی گروپ فوٹو میں مودی کو سائیڈ لائن کیا گیا، بھارتی صحافی دنیش کے وِہرا کا دعویٰ

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی صحافی دنیش کے وِہرا نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کانفرنس کے دوران لی جانے والی گروپ فوٹو پر سخت ردِعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی کو فوٹو میں مرکزی حیثیت نہیں دی گئی اور انہیں کونے میں کھڑا کر دیا گیا، جو بھارت کے وقار کے خلاف ہے۔

دنیش کے وِہرا کے مطابق فوٹوگراف میں چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ بالکل درمیان میں موجود تھے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو شی جن پنگ کے قریب رکھا گیا۔ اس کے برعکس وزیراعظم مودی کو صفِ اوّل میں ہونے کے باوجود تقریباً چوتھے یا پانچویں نمبر پر کونے کی جانب کھڑا کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی مودی کے قریب رکھا گیا، لیکن وہ بھی فوٹو کے دوسرے کونے پر تھے۔ وِہرا کا کہنا تھا کہ یہ پوزیشننگ الفابیٹیکل آرڈر میں نہیں تھی بلکہ واضح طور پر چین کی مرضی کے تحت طے کی گئی تھی۔

بھارتی صحافی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او میں بھارت دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور روس کی معیشت بھی بھارت سے چھوٹی ہے، اس کے باوجود بھارتی وزیراعظم کو مرکزی حیثیت نہ دینا ایک “سنجیدہ پیغام” ہے کہ چین بھارت کو اپنے برابر نہیں سمجھتا۔

ان کے بقول، “یہ بھارت کے لیے افسوسناک لمحہ ہے۔ میڈیا پر کہا جا رہا تھا کہ بھارت کا ڈنکا بج رہا ہے اور چین نے ریڈ کارپٹ استقبال کیا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ فوٹو ہی سب کچھ بتا رہی ہے کہ بھارت کو پسِ منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔”

دنیش کے وِہرا نے مزید کہا کہ چین کا یہ رویہ بار بار بھارت کو یہ احساس دلا رہا ہے کہ وہ اسے برابری کا درجہ دینے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو چین کے ساتھ تجارتی تعلقات تو رکھنے چاہئیں لیکن سیاسی اعتبار سے اعتماد نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ چین کے طرزِعمل سے یہ واضح ہے کہ وہ بار بار بھارت کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔