بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

انڈونیشیا میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، 2 جزائر متاثر، 19 افراد جاں بحق، درجنوں لاپتہ

  انڈونیشیا میں مسلسل موسلا دھار بارش کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے دو جزائر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جن میں معروف سیاحتی مقام بالی بھی شامل ہے۔ مختلف علاقوں میں پانی کے ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 19 افراد جاں بحق اور درجنوں لاپتا ہو گئے ۔
قومی آفات سے نمٹنے والے ادارے (این ڈی ایم اے) کے ترجمان عبدالموہاری کے مطابق  بارش کے نتیجے میں بالی کے 7 اضلاع زیرِ آب آ گئے جبکہ بعض مقامات پر مٹی کے تودے گرنے سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا  ۔
ترجمان نے بتایا کہ بالی میں 14 اور فلورز جزیرے میں 5 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
امدادی سرگرمیوں کے دوران 500 سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ عارضی پناہ گاہیں قائم کرنے کے لیے اسکولوں، دیہی کمیونٹی ہالز اور مساجد کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
عبدالموہاری کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام میں مصروف ہیں اور ملبے تلے مزید لاشیں ملنے کا خدشہ ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ جمعہ سے پیر کے دوران مزید بارشوں کا امکان ہے، جس سے صورتِ حال مزید بگڑ سکتی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ساحلی علاقوں کا رخ نہ کریں اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
انڈونیشیا میں ہر سال نومبر سے اپریل تک مون سون کا موسم ہوتا ہے، جس میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور پانی سے پھیلنے والی بیماریاں عام ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے بارشوں کے پیٹرن کو نہ صرف غیر معمولی بنا دیا ہے بلکہ زیادہ دیرپا اور خطرناک بھی، جس کے باعث نقصانات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں بھی وسطی جاوا کے ایک قصبے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 25 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔