ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی خارگ جزیرے پر کوئی زمینی کارروائی یا قبضے کی کوشش کی تو وہ عالمی تجارتی راستے آبنائے باب المندب کو بند کر سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک ذریعے نے کہا کہ امریکا کی کسی بھی عسکری کارروائی کے جواب میں ایران ایسے اقدامات کرے گا جن سے امریکی نقصان کی لاگت کئی گنا بڑھ جائے گی۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، باب المندب دنیا کی اہم ترین اسٹریٹجک گزرگاہوں میں شامل ہے، جو بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن کو ملاتی ہے۔ اس راستے سے ہر سال تقریباً 1 ٹریلین ڈالرز مالیت کی عالمی تجارت گزرتی ہے، اور یہاں رکاوٹ عالمی سپلائی چین اور تیل کی ترسیل پر شدید اثر ڈال سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یمن میں موجود ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ اس بحری گزرگاہ میں ایران کی مدد کرے گا۔ ماضی میں حوثی جنگجو بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے منسلک جہازوں پر حملے کر چکے ہیں۔
ادھر امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور تقریباً 3000 فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کی تیاری کی اطلاعات ہیں، تاہم امریکی صدر نے فوری زمینی حملے کی تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مقام ہے، اور ملک کی تقریباً 90 فیصد خام تیل اسی جزیرے کے ذریعے دنیا کو پہنچایا جاتا ہے۔ اس لیے ایران کسی بھی حملے کو اپنی معیشت پر براہِ راست دھچکے کے مترادف سمجھتا ہے۔
ایران کی سخت دھمکی: امریکا خارگ جزیرے پر حملہ کرے تو باب المندب بند کر دیں گے








