بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آزاد کشمیر الیکشن: وزارت اطلاعات کا الجزیرہ کی رپورٹنگ پر سخت ردعمل

مظفرآباد کے چند پولنگ اسٹیشنز کی منتخب کوریج کو عوامی مینڈیٹ کے خلاف بیرونی ایجنڈے کا حصہ قرار دے دیا گیا۔چند مخصوص مناظر اور منتخب افراد کے بیانات کی بنیاد پر پورے انتخابی عمل کے بارے میں رائے قائم کرنا صحافتی اصولوں کے منافی ہے، اعلامیہ
وزار ت اطلاعات و نشریات کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوران بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹنگ پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ الجزیرہ نے مخصوص اوقات میں چند چنے ہوئے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا اور پہلے سے طے شدہ بیانات پر انحصار کرتے ہوئے ایسی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی جو زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔

بیان میں کہا گیا کہ عوام کی بڑی تعداد نے انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کی اور جمہوری انداز میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا تاہم بعض غیر ملکی عناصر اس عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹنگ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتی ہے۔

اعلامیے میں اس طرزِ صحافت کو “زرد صحافت” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ چند مخصوص مناظر اور منتخب افراد کے بیانات کی بنیاد پر پورے انتخابی عمل کے بارے میں رائے قائم کرنا صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔

عوامی فیصلے نے ثابت کیا کہ ووٹرز نے جمہوری عمل پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کے انتخاب میں بھرپور حصہ لیا۔

انتخابی عمل کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی کیونکہ عوام نے آزادانہ انداز میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ بین الاقوامی میڈیا کو رپورٹنگ کے دوران غیر جانبداری، توازن اور صحافتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ حقائق کو مکمل تناظر میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر کے عوام کا فیصلہ جمہوری اصولوں کے مطابق سامنے آیا ہے اور کسی بھی قسم کی جانبدارانہ یا انتخابی رپورٹنگ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

مزید پڑھیں:سعودی وزیرخارجہ، ایرانی ہم منصب سے رابطہ، کشیدگی میں کمی کی سفارتی کوششوں پر زور

دوسری جانب پاکستان میں الجزیرہ کی ویب سائٹ نہیں کھل رہی، اور اس پر ملک میں پابندی سے متعقلق کوئی سرکاری بیان یا وضاحت بھی سامنے نہیں آئی۔