اسلام آباد: وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی یونٹ اور صوبے وقت کی ضرورت ہیں۔خیبر پختونخوا اسمبلی صوبہ ہزارہ کے لیے 3 بار آئینی قرارداد منظور کر چکی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بل پیش کیے جاچکے ہیں
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ 2010 میں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی، ہمارے 7 نوجوانوں نے اس معاملے پر اپنی جانیں دیں، مختلف جماعتوں کے لوگوں کا ایک ہی موقف تھا صوبہ ہزارہ بنایا جائے، ہم سب اس پر متفق ہیں کہ صوبہ ہزارا بننا چاہیے۔
وزیر مذہبی امور نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی صوبہ ہزارہ کے لیے 3 بار آئینی قرارداد منظور کر چکی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے بل پیش کیے جاچکے ہیں، بل لا اینڈ جسٹس کی قائمہ کمیٹیوں کو بھیجے جا چکے ہیں، پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بلز کی قانونی حیثیت پر اسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کریں گے۔
مزید پڑھیں:صوبائی حکومت ہماری پالیسی پر من و عن عمل کرے گی، سہیل آفریدی
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کے پیش نظر انتظامی طور پرنئے یونٹس اور صوبے بننا وقت کی ضرورت ہے، صوبے بننے سے انتظام، ریونیو کی وصولی اور ترقیاتی کام بہتر ہوسکیں گے، چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوام کے مسائل حل اور پاکستان مستحکم ہوگا، نئے صوبوں کے قیام کےلیے پرامن جدوجہد اور سیاسی قائدین سے رابطے جاری رہیں گے۔









