بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آبنائے ہرمز بحران: جنگ کے باوجود ایران کی تیل آمدن میں نمایاں اضافہ

جاری علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود ایران نے تیل کی برآمدات سے اپنی آمدن میں نمایاں اضافہ کر لیا ہے، جو اب یومیہ تقریباً 139 ملین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نہ صرف تیل کی فروخت جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض تجارتی جہازوں سے بھاری ٹرانزٹ فیس بھی وصول کر رہا ہے، جو بعض اوقات 20 لاکھ ڈالرز تک پہنچ جاتی ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایران کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ ایرانی خام تیل، خاص طور پر “ایرانی لائٹ”، زیادہ تر چین کو فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی یومیہ تیل برآمدات تقریباً 1.6 ملین بیرل کے قریب برقرار ہیں، جو جنگ سے قبل کی سطح کے برابر ہے۔ ایران کے آئل ٹینکرز خارگ جزیرے سے تیل لوڈ کر کے خلیج فارس کے راستے آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں، اور حالیہ دنوں میں اس سرگرمی میں مزید تیزی دیکھی گئی ہے۔
یہ صورتحال دیگر خلیجی ممالک کے برعکس ہے، جہاں جنگ کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور برآمدات میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے باوجود ایران اپنی توانائی کی ترسیل کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جس سے اسے مالی استحکام حاصل ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ امریکا نے تیل کی عالمی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بعض ایرانی تیل ذخائر پر پابندیوں میں عارضی نرمی بھی کی، جس سے ایران کو اضافی فائدہ پہنچا۔
ماہر ریچرڈ نیفیو کے مطابق موجودہ حالات میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکا کو بھی عالمی منڈی کے توازن کے لیے ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دینا پڑ رہی ہے، حالانکہ عمومی پالیسی اس کے برعکس رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں ایران کی تیل آمدن میں واضح اضافہ ہوا، جو فروری کے تقریباً 115 ملین ڈالرز یومیہ سے بڑھ کر 139 ملین ڈالرز یومیہ تک جا پہنچی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات، عراق اور سعودی عرب جیسے ممالک کو جنگی حالات کے باعث تیل کی پیداوار اور برآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ایران کی زیادہ تر توانائی تنصیبات محفوظ رہی ہیں، اگرچہ بعض مقامات جیسے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دیا گیا ہے، تاہم ایران نے مذاکرات سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر قائم ہے اور خطے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔