وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب(Muhammad Aurangzeb) نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندگان سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے اور جلد اس کی بورڈ منظوری متوقع ہے، جس کے بعد اگلی قسط جاری ہوگی۔
سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے اس ماہ 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے ادا کیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت اور 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں 2028 تک توسیع تک کا بھی ذکر کیا، جس سے بیرونی مالی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے چار سال بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کرتے ہوئے یورو بانڈ جاری کیا، جو نجی سطح پر جاری کیا گیا اور اس کی شرح منافع 7 فیصد سے کم رہی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے۔
مزیدپڑھیں:معاشی سفارتکاری تیز: جائیکا اور اے آئی آئی بی کے ساتھ تعاون میں پیش رفت
انہوں نے پاکستان کی درمیانی مدت کی مالی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی، جس میں یورو بانڈ، سکوک اور روپے سے منسلک ڈالر بانڈ جیسے مختلف ذرائع سے فنڈنگ حاصل کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔
سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ اس کے لیے درخواست جمع کرا دی گئی ہے جبکہ متعلقہ چینی ادارے کی منظوری کا انتظار ہے۔
وزیر خزانہ نے خطے میں جاری صورتحال کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے، قیمتوں اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے اور کمزور طبقات کے لیے ہدفی ڈیجیٹل سبسڈیز دینے پر توجہ دے رہی ہے۔
ملاقات کے اختتام پر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اشاریے اور اصلاحات کی رفتار ملک کی ریٹنگ میں بہتری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔









