جنگ بندی کے باوجود غزہ(Gaza) میں جاری حملوں اور مسلسل خوف کے ماحول نے بچوں کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے، اندازاً 1.1 ملین بچے نفسیاتی اور سماجی مدد کے منتظر ہیں جبکہ کئی بچے صدمے کے باعث بولنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کچھ بچوں میں یہ مسئلہ جسمانی چوٹوں جیسے کہ سر پر ضرب یا دماغی نقصان کے باعث پیدا ہو رہا ہے جبکہ کئی بچوں میں کوئی ظاہری چوٹ نہیں دیکھی گئی مگر شدید خوف اور صدمہ انہیں خاموش کر دیتا ہے، غزہ کے اسپتالوں میں ایسے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز کا اس صورتِ حال سے متعلق کہنا ہے کہ بعض بچے اچانک مکمل طور پر بولنا چھوڑ دیتے ہیں جسے ’نفسیاتی گونگا پن‘ کہا جاتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق مسلسل جنگ، موت کے مناظر، عزیزوں کا کھو جانا اور عدم تحفظ بچوں کو اس حد تک متاثر کرتا ہے کہ ان کا دماغ دفاعی حالت میں چلا جاتا ہے، اس کیفیت میں بچہ ناصرف بولنا چھوڑ دیتا ہے بلکہ سیکھنے اور معمول کی سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لے پاتا۔
مزیدپڑھیں:پہلگام فالس فلیگ کوایک سال مکمل، بھارت پاکستان کیخلاف من گھڑت الزامات ثابت کرنے میں ناکام
عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی صورتِ حال دیگر تنازعات سے مختلف ہے جہاں ہر فرد عدم تحفظ کا شکار ہے اور علاج و مدد کے وسائل بھی محدود ہیں۔
غزہ کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کی بحالی ایک طویل اور مشکل عمل ہے جس کے لیے مستقل علاج اور محفوظ ماحول ضروری ہے تاہم جنگی حالات کے باعث یہ سہولتیں محدود ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے چھوٹے مثبت اقدامات جیسے کھیل اور سکون بخش سرگرمیاں بچوں کی بحالی میں مدد دے سکتی ہیں مگر اصل ضرورت امن اور تحفظ کی ہے تاکہ یہ بچے دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔









