بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دوحہ میں مقیم افغان مہاجرین کو کہیں اور منتقل کیا جائے، قطر کا امریکا سے مطالبہ

قطر نے امریکا سے کہا ہے کہ دوحہ میں مقیم افغان مہاجرین(afghan mohajrin) کو 29 ستمبر 2026 تک کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے کیونکہ ان کی میزبانی کا معاہدہ عارضی بنیادوں پر کیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری سفارتی دستاویزات کے مطابق دونوں ممالک نے اس معاہدے کو 2026 تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاہم قطر نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ مستقل نہیں ہو سکتا۔

یہ معاہدہ ان افغان شہریوں سے متعلق ہے جنہیں 2021 میں طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد افغانستان سے نکالا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان افراد کو دوحہ کے قریب واقع ’کیمپ السیلیہ‘ میں رکھا گیا ہے جہاں وہ امریکا یا دیگر ممالک میں آبادکاری کے منتظر ہیں۔ اس وقت 1100 سے زائد افغان مہاجرین اس مرکز میں موجود ہیں۔

دستاویزات کے مطابق قطر نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ کیمپ میں موجود تمام افراد کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کیا جائے جبکہ مزید افغان مہاجرین کو قطر نہ بھیجنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

کیمپ السیلیہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران ایک اہم ٹرانزٹ مرکز کے طور پر استعمال ہوا تھا جہاں ہزاروں افغان شہریوں کو بیرون ملک آبادکاری کے لیے پروسیس کیا گیا۔

مزید پڑھیں:پاکستانی عازمین حج نسک کارڈ گلے میں لٹکا کر رکھیں، ڈائریکٹر حج عارف اسلم راؤ

یہ معاہدہ ابتدا میں 2023 میں طے پایا تھا جس میں 2024 کے بعد اب ایک اور توسیع کی گئی ہے، معاہدے کے تحت مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد مہاجرین کی منتقلی کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔