بایومیٹرک سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سیلفیز میں مشہور ’’V‘‘ کا سائن فنگر پرنٹس کی چوری کا سبب بن سکتا ہے۔(victory sign unsecured)
وی کا نشان جو فتح اور امن کی علامت سمجھا جاتا ہے، جس میں شہادت اور درمیانی انگلی کو باہر کی جانب اٹھایا جاتا ہے، طویل عرصے سے عالمی پاپ کلچر کا حصہ رہا ہے۔
تاہم اب سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی ریزولوشن کیمروں اور ایڈوانس آرٹیفیشل اینٹلی جنس سافٹ ویئر کی بدولت یہ مقبول اشارہ اب لوگوں کے فنگر پرنٹس کو نقل کرنے اور بایومیٹرک سیکیورٹی سسٹمز کو بائی پاس کرنے کے خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔
اس حوالے سے چینی سیکیورٹی ماہر لی چانگ نے گزشتہ ماہ ایک ریئلٹی شو میں ایک مشہور شخصیت کی سیلفی کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے دکھایا کہ وی سائن والی تصاویر میں انگلیاں کتنی واضح نظر آتی ہیں اور ایسی تصاویر کس طرح ذاتی بایومیٹرک معلومات کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
اپنے تجزیے میں چینی ماہر نے دکھایا کہ اگر کسی شخص کی انگلی براہ راست کیمرے کی طرف ہو اور 1.5 میٹر سے کم فاصلے سے قریبی تصویر لی جائے، تو اس کے فنگر پرنٹس کی معلومات مکمل طور پر حاصل کیے جانے کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سیلفیاں خاص طور پر خطرناک سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ بھی بتایا کہ 3 میٹر تک کے فاصلے سے بھی تقریباً آدھے فنگر پرنٹس حاصل کیے جا سکتے ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں اے آئی سافٹ ویئر مددگار ثابت ہوتا ہے۔
لی چانگ نے ناظرین کو اس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے یہ دکھایا کہ فوٹو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر اور اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے کم ریزولوشن والی تصاویر کو بہتر بنا کر وہ فنگر پرنٹس جو عام طور پر دھندلے دکھائی دیتے تھے وہ انتہائی واضح اور تفصیلی بنائے جا سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کے ایک کرپٹو گرافی کے پروفیسر جنگ جیائو نے بتایا کہ ہائی ڈیفینیشن کیمروں کے آنے کے بعد اب صرف وی پوز کی مدد سے ہی ہاتھ کی تفصیلی معلومات جس میں فنگر پرنٹس دوبارہ تیار کرنا تکنیکی طور پر ممکن ہو گیا ہے۔
لی چانگ کا تجربہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس نے بڑے پیمانے پر سیکیورٹی لیکس کے خدشات کو جنم دیا، لیکن بعض ماہرین نے وضاحت کی کہ کسی شخص کے فنگر پرنٹس چرانا اور انہیں بایومیٹرک سیکیورٹی کو توڑنے کے لیے استعمال کرنا اتنا آسان نہیں۔
اصل میں فنگر پرنٹس حاصل کرنے کے عمل میں روشنی کے حالات، کیمرے کا فوکس اور تصویر کے واضح ہونے جیسے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں اور شناخت چوروں کو فنگر پرنٹس کا موازنہ کرنے کے لیے ایک ہی شخص کی متعدد تصاویر درکار ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں:کراچی: ملزمہ انمول عرف پنکی کو پروٹوکول دینے پر 3 پولیس افسر معطل
ماہرین نے کہا اگر آپ واقعی اپنے بایومیٹرک ڈیٹا کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور سیلفیوں میں وی کا اشارہ بنانے کی عادت بھی ترک نہیں کرسکتے، تو سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کرنے سے پہلے انگلیوں کے سروں کو دھندلا کر دیں یا ڈیجیٹل ایڈیٹنگ ٹولز کے ذریعے فنگر پرنٹس کو ہموار کر دیں۔









