بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چینی صدر نے امریکہ اورچین کو دنیا کی دو بڑی طاقتیں قرار دے دیا

 شی جن پنگ(Xi Jinping) نے چین (China)اور امریکا کو دنیا کی دو بڑی طاقتیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون عالمی امن، ترقی اور استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

چین میں امریکی اور چینی صدور کے درمیان وفود کی سطح پر ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، عالمی استحکام اور خطے کی صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

شی جن پنگ نے امریکی وفد کا خیرمقدم کیا

ملاقات کے آغاز پر شی جن پنگ نے امریکی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی صدر سے ملاقات پر خوشی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات کا استحکام پوری دنیا کے لیے مثبت پیغام ہے کیونکہ دونوں ممالک عالمی استحکام اور خوشحالی کو مشترکہ ہدف سمجھتے ہیں۔

چینی صدر نے کہا:“امریکا اور چین دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون عالمی امن اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔”

ٹرمپ نے تجارت کو ملاقات کا بنیادی محور قرار دے دیا

اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے پرتپاک استقبال پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکا چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے شی جن پنگ کو دنیا کے عظیم رہنماؤں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس ہے۔

مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ سے قبل تہران میں ایرانی فٹبال ٹیم کے حق میں بڑا اجتماع

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے اور شی جن پنگ کے تعلقات ہمیشہ مثبت رہے ہیں اور جب بھی دونوں ممالک کے درمیان کوئی مسئلہ پیدا ہوا تو بات چیت کے ذریعے جلد حل نکال لیا گیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوں گے۔

‘حریف نہیں، شراکت دار بنیں’

چینی صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان مشترکہ مفادات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار بن کر آگے بڑھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں طاقتیں ایک دوسرے کی کامیابی اور خوشحالی میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں اور مثبت تعاون کے ذریعے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

تائیوان معاملہ حساس قرار

ملاقات کے دوران تائیوان کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ چینی صدر نے اسے چین اور امریکا تعلقات میں ایک نہایت حساس مسئلہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو احتیاط سے نہ سنبھالا گیا تو کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہتر تعلقات کے لیے تائیوان کے مسئلے پر محتاط اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانا ضروری ہے۔

تجارتی جنگ پر بھی اہم بیان

شی جن پنگ نے تجارتی جنگ کے حوالے سے کہا کہ ماضی کے حقائق بارہا ثابت کر چکے ہیں کہ تجارتی جنگ میں کوئی بھی فریق فاتح نہیں بنتا۔

انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو مثبت پیشرفت برقرار رکھنے اور عالمی معیشت کے استحکام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔