سپریم کورٹ (Supreme Court)آف پاکستان نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ کی سزا کے خلاف دائر نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف سنایا گیا 2016 کا اکثریتی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اس کے ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ کا 13 جون 2002 کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا۔
عدالتی رائے اور تحریری فیصلہ
عدالت کی جانب سے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو قانون کے دائرے سے بڑھ کر سزا نہیں دی جا سکتی۔ فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 12 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ماضی سے لاگو ہونے والی سخت سزائیں آئینی تحفظات سے متصادم ہو سکتی ہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ احتساب کے قانون کے تحت دی گئی سزا پر بھی قانونی سوالات موجود تھے کیونکہ یہ سابقہ قوانین کے مقابلے میں زیادہ سخت نوعیت کی تھی۔
شواہد ناکافی قرار
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ اس مقدمے میں رشوت، ذاتی فائدے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے واضح اور ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محض انتظامی بے قاعدگی یا طریقہ کار کی غلطی کو مجرمانہ نیت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔
مزیدپڑھیں:قطر سے ایل این جی کا دوسرا جہاز کراچی پہنچ گیا، توانائی سپلائی میں تسلسل برقرار
فیصلے کے مطابق انور سیف اللہ کی جانب سے تقرریاں سرکاری ریکارڈ اور محکمانہ روایات کے مطابق کی گئی تھیں، اور انتظامی غلطی اور مجرمانہ ذمہ داری کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
بریت میں مداخلت کی حدود
سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ جب کسی ملزم کو ہائی کورٹ بری کر دے تو اس کی بے گناہی کا قانونی تصور مزید مضبوط ہو جاتا ہے، اور ایسی صورت میں فیصلے میں مداخلت صرف غیر معمولی حالات میں ہی کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ 2016 کے فیصلے میں بریت کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس قانونی بنیادیں موجود نہیں تھیں، اور نظرثانی کا اختیار اگرچہ محدود ہے، تاہم ریکارڈ میں واضح غلطی کی صورت میں اس کی درستگی عدالت کی ذمہ داری ہے۔
مقدمے کا پس منظر
واضح رہے کہ انور سیف اللہ خان پر 1996 میں وفاقی وزیر پٹرولیم کے طور پر او جی ڈی سی ایل میں مبینہ طور پر غیر قانونی تقرریوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں مختلف عدالتی مراحل سے گزرنے کے بعد یہ مقدمہ ایک بار پھر سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت آیا تھا، جس کا اب فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔









