اداکارہ مومنہ اقبال اور سابق رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کے درمیان تنازع مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک طرف کروڑوں روپے مالیت کے تحائف کی واپسی کا مطالبہ سامنے آیا ہے تو دوسری جانب الزامات اور جوابی مؤقف نے معاملے کو قانونی اور عوامی بحث میں بدل دیا ہے۔
معروف صحافی ارشاد بھٹی کے مطابق ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ایم پی اے نے مبینہ طور پر شادی کی نیت سے مومنہ اقبال کو مہنگے تحائف اور مالی سہولیات فراہم کیں۔ ان میں ایک فارچیونر گاڑی، ایک ہونڈا سوک، اور تقریباً 84 لاکھ روپے مالیت کی لگژری گھڑی شامل ہے، جبکہ اس کے علاوہ سفری اخراجات اور دیگر مالی مدد بھی دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ گاڑی اس وقت مومنہ اقبال کی والدہ کے زیر استعمال ہے، جسے کیس کے اہم پہلو کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ وکیل کا مؤقف ہے کہ یہ تمام تحائف ذاتی نہیں بلکہ شادی کے وعدے کے تحت دیے گئے تھے، اس لیے تعلقات ختم ہونے کی صورت میں ان کی واپسی قانونی طور پر بنتی ہے۔
وکیل کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان تقریباً پانچ سال تک تعلقات رہے اور بات شادی کے مرحلے تک بھی پہنچی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں خاندانوں کے درمیان ابتدائی طور پر رشتہ طے ہونے پر رضامندی بھی موجود تھی اور رشتہ لے کر باضابطہ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
تاہم بعد میں صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب بعض ذاتی نوعیت کے انکشافات سامنے آئے۔ ان میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ مومنہ اقبال کی پہلے بھی دو شادیاں ہو چکی تھیں، جس کے بعد تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ اگرچہ بعد ازاں کچھ عرصے کے لیے معاملات دوبارہ بہتر ہوئے اور شادی کی تیاریوں کی بات بھی سامنے آئی، لیکن یہ سلسلہ دوبارہ ٹوٹ گیا۔
مزیدپڑھیں:مدینہ منورہ میں 44 ڈگری گرمی کی پیشگوئی، عازمین کو احتیاط کی ہدایت
وکیل کے مطابق تنازع اس وقت مزید بڑھا جب ثاقب چدھڑ کو یہ اطلاع ملی کہ مومنہ اقبال کی کسی اور جگہ شادی طے ہو گئی ہے۔ اس صورتحال پر رابطہ کرنے کے بعد مبینہ طور پر فریقین کے درمیان تلخی بڑھی اور بعد میں قانونی نوٹس اور مقدمات تک بات پہنچ گئی۔
اسی دوران یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کچھ دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے، جس کے بعد ثاقب چدھڑ کی جانب سے باقاعدہ مقدمہ درج کروایا گیا۔ تاہم اس الزام کی مکمل تفصیلات اور تصدیق ابھی تک عوامی سطح پر واضح نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کی شادی یکم جون 2026 کو طے ہے۔ ان کی فیملی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام تنازعات اور خبروں کے باوجود شادی اپنے شیڈول کے مطابق ہی ہوگی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
ابتدائی طور پر یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ تعلقات ختم ہونے کے بعد مبینہ دباؤ یا ہراسانی کی کوششیں کی گئیں، تاہم ثاقب چدھڑ کے وکیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مؤکل صرف اپنے دیے گئے تحائف اور اخراجات کی قانونی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے، اور اس کا مقصد کسی قسم کی ہراسانی نہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ اب محض ذاتی تنازع نہیں رہا بلکہ اس میں مالی لین دین، تعلقات کی نوعیت اور قانونی دعوؤں کے کئی پہلو شامل ہو چکے ہیں، جن کی مزید وضاحت عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آ سکے گی۔
اس وقت سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ زیر بحث ہے، جہاں صارفین مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ دونوں فریقین کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔









