ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی، حالانکہ حالیہ دنوں میں سفارتی پیش رفت کی امیدیں بڑھتی دکھائی دے رہی تھیں۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری جہازوں پر امریکی ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کوئی معاہدہ مکمل، تصدیق شدہ اور باضابطہ طور پر دستخط شدہ نہیں ہو جاتا۔
ادھر ایرانی میڈیا سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں اب بھی کئی اہم نکات پر اختلافات موجود ہیں، جن میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، پابندیوں کا خاتمہ، جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں؛چینی صدر کا پاکستان کے کردار اور دوستی پر اعتماد کا اظہار
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور ایک ابتدائی فریم ورک پر بات چیت ہو رہی ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے کا اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران نے اصولی طور پر آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ اس کے بدلے میں امریکی بحری ناکہ بندی نرم کرنے اور بعض پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایک “اچھا معاہدہ” چاہتا ہے اور صدر ٹرمپ کسی کمزور یا ناقص ڈیل پر آمادہ نہیں ہوں گے۔
مزید پڑھیں؛ایران: چوتھی جنگ کے لیے بھی تیار ہیں، انگلی ٹریگر پر ہے — محسن رضائی
خطے میں کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں ممکنہ جنگ بندی کی امید پر تیزی دیکھی گئی۔
ادھر لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں اسرائیلی حملوں اور ڈرون پروازوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ لبنانی صدر جوزف عون نے ایک بار پھر جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ دہرایا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن جنگ کے 87ویں روز بھی خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور کسی بھی پیش رفت کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔









