وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ جس سسٹم میں ہم رہ رہے ہیں آپ مانیں یا نہ مانیں یہ گر چکا ہے۔
پہلی پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ سیاسی تقریر نہ کروں، آج تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنی پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور کے پی والے اپنے مسائل بتارہے تھے۔ پاکستان کی اس حالت میں جہاں آج ہم ہیں اس کے ذمہ دار سب یہاں بیٹھے ہیں۔
کاکروچ اگر اکٹھے ہوگئے تو سب کچھ الٹ سکتے ہیں ، وفاقی حکومت کا یہ حال ہے کہ ہم بجٹ منفی میں بناتے ہیں ۔ لیپ ٹاپ سے نوجوانوں کو خوش نہیں کیا جاسکتا۔
Addressing Pakistan’s first Economic Summit 2026 in Islamabad, Interior Minister Mohsin Naqvi said the political and administrative systems must be reformed to make governance, justice and basic services more accessible to ordinary citizens. He urged business leaders and… pic.twitter.com/4xmkK9LLS6
— P Connect (@ConnectingPak) July 30, 2026
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مجھے سیاست کے ایوانوں میں آئے ساڑھے تین سال ہوگئے۔ میں یہی بتاسکتا ہوں کہ آپ 10 سال بعد بھی یہاں بیٹھے یہی مسائل بتارہے ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جس سسٹم میں ہم رہ رہے ہیں یہ سسٹم منہدم ہوچکا ہے۔ جس دن آپ نے فیصلہ کرلیا نظام کو ٹھیک کرنا ہے، یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ میں جمہوریت کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں لیکن جمہوریت میں بھی کئی قسم کے نظام ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عام آدمی کو بنیادی سہولت چاہیے جو ہم نہیں دے پاتے ہیں۔ آپ کو ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی سطح پر جانا ہوگا۔ اسے صوبے کہہ دیں یا جو بھی بھی نام دے دیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں کو دو چار ہزار روپے یا ٹیبلٹس دے کر ٹھیک کرلیں گے۔ جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا۔









