خیبر پختونخوا کی سیاست میں بڑا سیاسی بحران سامنے آگیا ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف(PTI) کے 50 سے زائد اراکینِ صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف الگ گروپ قائم کر لیا ہے۔
اس پیشرفت کے بعد صوبائی حکومت کو شدید سیاسی دباؤ اور آئندہ بجٹ کی منظوری میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں اور متعدد اراکین وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت بھی موجودہ صورتحال پر تشویش میں مبتلا ہے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق اراکین اسمبلی کے اس نئے گروپ کے سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی حکومت برقرار رکھنے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں اور مختلف سیاسی شخصیات سے رابطے کر رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:سی پیک کی ترقی کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ نے حالیہ سیاسی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اہم ملاقات کی جبکہ حکومت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پارٹی کے اندر اختلافات مزید بڑھے تو صوبائی حکومت کیلئے بجٹ کی منظوری اور اسمبلی میں عددی برتری برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن خیبر پختونخوا کی سیاست کیلئے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔









