فرانس(France )کے شہر سینٹ ڈینس اور دیگر غریب مضافاتی علاقوں میں تارکین وطن طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کے باوجود ملک بدری کے احکامات اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے، جس سے ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کئی ایسے طلبہ جو ٹیکنیکل ہائی اسکولز اور پیشہ ورانہ ڈگری پروگرامز مکمل کر رہے ہیں، انہیں روزگار کے مواقع کے بجائے رہائشی دستاویزات کی کمی کے باعث ملک چھوڑنے کے نوٹس موصول ہو رہے ہیں، جنہیں OQTF (Obligation de Quitter le Territoire Français) کہا جاتا ہے۔
تیونس سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ طالبہ میریم اور مراکش سے آنے والے 19 سالہ محمد سمیت متعدد طلبہ نے بتایا کہ وہ برسوں سے France میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، مگر اچانک انتظامی خط و کتابت اور ویزا مسائل کے باعث ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
مزید پڑھیں؛جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کی ان سےنعمتیں چھین لی گئیں: خطبہ حج
امیگریشن ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اکثر پیچیدہ انتظامی نظام، ویزا پروسیسنگ میں تاخیر اور دستاویزات کی کمی کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس میں بعض صورتوں میں طلبہ کو غیر ارادی طور پر قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بعض علاقوں میں رہائشی اجازت ناموں اور ورک پرمٹس کی منظوری میں طویل تاخیر دیکھی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ نہ تو تعلیم جاری رکھ پا رہے ہیں اور نہ ہی ملازمت حاصل کر پا رہے ہیں۔
حکام کا مؤقف ہے کہ تمام درخواستیں قانون کے مطابق نمٹائی جاتی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ نظام میں بہتری کے لیے اصلاحات جاری ہیں تاکہ نوجوانوں کے لیے قانونی راستے آسان بنائے جا سکیں۔
مقامی سطح پر بعض سیاسی نمائندے اور سماجی تنظیمیں ان طلبہ کی حمایت میں سامنے آئی ہیں اور ان کے قیام کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے اقدامات کی اپیل کر رہی ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی اور پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔









