واشنگٹن: امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (CIA) کے ایک سابق سینئر افسر پر ادارے سے بڑی مالیت کا سونا چوری کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے، جس نے امریکی سکیورٹی اداروں میں ہلچل مچا دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق افسر ڈیوڈ رش پر الزام ہے کہ انہوں نے سی آئی اے سے 303 سونے کی اینٹیں غائب کر کے اپنے گھر میں چھپا رکھی تھیں، جن کی مجموعی مالیت 4 کروڑ ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ڈیوڈ رش نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ سونا اور غیر ملکی کرنسی انہوں نے سرکاری اور آپریشنل اخراجات کے لیے استعمال کیا، تاہم بعد ازاں اس حوالے سے کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا جا سکا۔
رپورٹس کے مطابق ملزم کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا ہے اور وہ اس وقت زیرِ حراست ہیں، جبکہ ان کی ابتدائی سماعت جلد متوقع ہے۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ ڈیوڈ رش پر جعلی ٹائم شیٹس جمع کرا کر سرکاری فنڈز حاصل کرنے کے الزامات بھی ہیں، جبکہ انہوں نے اپنی تعلیمی اسناد اور نیوی ریزرو سے متعلق معلومات بھی مبینہ طور پر غلط فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں؛نیویارک میں اسرائیل ڈے پریڈ: میئر ظہران ممدانی کی عدم شرکت، سکیورٹی ہائی الرٹ
سی آئی اے اور ایف بی آئی کے مشترکہ بیان کے مطابق داخلی تحقیقات کے دوران سنگین بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد معاملہ ایف بی آئی کے حوالے کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ نومبر 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی اور سونا حاصل کیا گیا، تاہم ادارے کے ریکارڈ میں اس کا کوئی واضح اندراج موجود نہیں تھا۔
ایف بی آئی نے 18 مئی کو ورجینیا میں ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے 303 سونے کی اینٹیں برآمد ہوئیں، جن میں سے ہر ایک کا وزن تقریباً ایک کلوگرام بتایا گیا ہے۔
چھاپے کے دوران متعدد لگژری اشیاء بھی برآمد کی گئیں، جن میں مہنگی رولیکس گھڑیاں بھی شامل ہیں۔
یہ واقعہ امریکی خفیہ اداروں کے لیے ایک بڑا اسکینڈل قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد سکیورٹی اور اندرونی نگرانی کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔









