امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کو واشنگٹن کے معروف ثقافتی ادارے ’’جان ایف کینیڈی سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس‘‘ سے متعلق ایک اہم قانونی دھچکا لگا ہے۔ امریکی عدالت نے حکم دیا ہے کہ ادارے کے نام کے ساتھ صدر ٹرمپ کی شناخت شامل کرنے کا اقدام قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں، لہٰذا اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں واقع کسی بھی قومی یا سرکاری اہمیت کے حامل مقام کا نام کانگریس کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق اس معاملے میں مطلوبہ قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا، اس لیے یہ اقدام قابلِ قبول نہیں۔
عدالت نے ایک اور اہم فیصلے میں کینیڈی سینٹر کو تزئین و آرائش کے نام پر دو سال کے لیے بند کرنے کے منصوبے کو بھی معطل کر دیا۔ فنونِ لطیفہ سے وابستہ حلقے اس فیصلے کو اہم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ کینیڈی سینٹر امریکا کے نمایاں ثقافتی اور فنّی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں؛صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
دوسری جانب کینیڈی سینٹر کے ترجمان نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے بھی عدالتی فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ ان کے بقول ’’ناکام کینیڈی سینٹر‘‘ کو اپنے وژن کے مطابق دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر سیاسی اور قانونی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ فروری 2025 میں صدر ٹرمپ نے کینیڈی سینٹر کے بورڈ میں متعدد ٹرسٹیز کو تبدیل کیا تھا اور چیئرمین کے انتخاب سے قبل خود کو بھی بطور ٹرسٹی نامزد کر لیا تھا۔ اس اقدام نے اُس وقت بھی سیاسی اور ثقافتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی تھی، جبکہ عدالت کے حالیہ فیصلے نے اس تنازع کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔









