کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے معروف فارماسیوٹیکل کمپنی Reckitt Benckiser کی جانب سے اسٹریپسلز کی مبینہ گمراہ کن مارکیٹنگ سے متعلق کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے تین کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کمپنی نے صارفین کو مصنوعات کی حقیقی نوعیت کے بارے میں گمراہ کیا اور کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 10(2)(ب) کی خلاف ورزی کی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اسٹریپسلز کو بطور دوا (میڈیسن) کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ یہ ایک نان میڈی کیٹڈ پروڈکٹ ہے اور اس وقت فوڈ آئٹم کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کمیشن کی کارروائی کے بعد کمپنی نے اپنی پیکجنگ اور انتباہی لیبلنگ میں نمایاں تبدیلیاں کیں، جس کے تحت اب “نان میڈی کیٹڈ” کا واضح انتباہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نمایاں طور پر درج کیا جا رہا ہے، جبکہ پہلے یہ معلومات کم واضح انداز میں دی جاتی تھیں۔
ٹریبونل نے یہ بھی ہدایت کی کہ کمپنی اسٹریپسلز کی حیثیت سے متعلق عوامی آگاہی مہم چلائے اور کم از کم تین اردو اور تین انگریزی اخبارات میں باقاعدہ وضاحتی اشتہارات شائع کرے۔ مزید کہا گیا کہ مکمل تعمیل تک اس معاملے پر ہفتہ وار وضاحتی اشتہارات بھی جاری رکھے جائیں۔
مزیدپڑھیں:خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 5.3 شدت کا زلزلہ،شہری گھروں سے باہر نکل آئے
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ صارفین کو درست اور شفاف معلومات فراہم کرنا لازمی ہے تاکہ وہ کسی بھی پروڈکٹ کے بارے میں باخبر فیصلہ کر سکیں۔ ٹریبونل نے کمیشن آف پاکستان کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ گمراہ کن اشتہارات کے خلاف کارروائی صارفین کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
دوسری جانب کمیشن آف پاکستان نے اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔









