امریکا میں صدر Donald Trump کی انتظامیہ سے منسوب ایک متنازع منصوبے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں مبینہ طور پر لاکھوں زندہ افراد کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ ظاہر کرنے کی تجویز دی گئی تھی تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
امریکی سینیٹ کی کمیٹیوں میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ تقریباً 27 لاکھ افراد کو سوشل سیکیورٹی کے نظام میں مردہ قرار دینے سے متعلق تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں متاثرہ افراد بینکنگ، ملازمت، سماجی فوائد اور دیگر سرکاری خدمات تک رسائی سے محروم ہو سکتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ Department of Government Efficiency کے تحت تیار کیا گیا تھا، جس کی قیادت ارب پتی کاروباری شخصیت Elon Musk کر رہے تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا منصوبہ نافذ کیا جاتا تو اس کے سنگین قانونی اور انسانی حقوق سے متعلق اثرات مرتب ہو سکتے تھے۔
دوسری جانب Social Security Administration نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کی جانب سے شہریوں کو جان بوجھ کر مردہ قرار دینے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل سیکیورٹی ریکارڈز کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے معمول کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:ملک بھر میں آٹا مزید مہنگا، 20 کلو تھیلے کی قیمت 2800 روپے تک جا پہنچی
ادھر Department of Homeland Security نے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدامات قومی سلامتی اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے ضروری ہیں۔
اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس نوعیت کی کسی بھی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر رپورٹ میں کیے گئے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ امریکی امیگریشن پالیسی سے متعلق ایک بڑا تنازع بن سکتا ہے۔









