بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی سی بی میں بڑی تبدیلیوں پر غور، سابق اسٹارز کو اہم ذمہ داریاں ملنے کا امکان

پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) میں قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر غور جاری ہے، جس کے تحت سابق کرکٹرز کو اہم انتظامی اور کوچنگ ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بورڈ حکام نے حالیہ دنوں میں متعدد سابق اسٹار کھلاڑیوں سے ملاقاتیں کی ہیں، جن میں ٹیم مینجمنٹ، سلیکشن کمیٹی اور کرکٹ ڈھانچے سے متعلق ممکنہ کرداروں پر بات چیت کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سابق کپتان یونس خان کو ممکنہ طور پر اہم ذمہ داریاں دیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر موجودہ کوچنگ سیٹ اپ میں سرفراز احمد کو مزید مواقع نہ دیے گئے تو یونس خان کو ہیڈ کوچ یا کسی دیگر اہم عہدے پر فائز کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ انہیں انتظامی سطح پر بھی مختلف کردار دیے جا سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد کی بطور کوچ کارکردگی سے بورڈ مکمل طور پر مطمئن نہیں ہے، تاہم ان کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، اس لیے اگر انہیں کوچنگ سے ہٹایا گیا تو انہیں کسی اور ذمہ داری پر ایڈجسٹ کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔

اسی طرح سابق آل راؤنڈر محمد حفیظ کی بھی پی سی بی حکام سے اہم ملاقات ہوئی ہے۔ حفیظ اس سے قبل 2024 کے دورۂ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوران ٹیم ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، تاہم چیئرمین کی تبدیلی کے بعد وہ عہدے پر برقرار نہ رہ سکے تھے۔

مزیدپڑھیں:استقبالیہ ریلی میں ہوائی فائرنگ !‌ امیر مقام کے بھتیجے کیخلاف مقدمہ درج

ذرائع کے مطابق محمد حفیظ نے دوبارہ ملکی کرکٹ کے لیے خدمات سرانجام دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم وہ اس بار مکمل اختیارات کے خواہاں ہیں۔ انہیں سلیکشن کمیٹی یا ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ جیسے اہم عہدے دیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔

رابطے پر محمد حفیظ نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی پاکستان کرکٹ کی بہتری چاہتے ہیں، تاہم تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔

دوسری جانب قومی ٹیم کی قیادت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کپتان شان مسعود کی قیادت برقرار رہنا مشکل دکھائی دے رہا ہے، اور انہیں مبینہ طور پر استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے بورڈ سے درخواست کی ہے کہ انہیں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں تک مزید موقع دیا جائے۔

بورڈ ذرائع کے مطابق قیادت کے لیے متبادل آپشنز محدود ہیں۔ سلمان علی آغا کی انفرادی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار دی جا رہی ہے، جبکہ بابر اعظم کو متعدد مواقع ملنے کے باوجود ٹیم کو مستقل فتوحات کی راہ پر نہیں ڈال سکے۔

قومی ٹیم کا اگلا بڑا امتحان ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہے جو 25 جولائی سے شروع ہوگی، جبکہ اس کے بعد اگست میں انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی، جس کے لیے ٹیم کی کارکردگی اور قیادت پر حتمی فیصلوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔