وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال (Ahsan Iqbal) نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) پر حکومت اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان مشاورت مکمل ہو گئی ہے اور معاملات پر باہمی سمجھوتہ طے پا چکا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور اتحادیوں کے درمیان ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر تفصیلی بات چیت کے بعد ایک مشترکہ فہم (انڈراسٹینڈنگ) قائم کر لی گئی ہے۔
احسن اقبال کے مطابق آئندہ بجٹ میں زیادہ توجہ کم ترقی یافتہ اور چھوٹے صوبوں پر دی جائے گی تاکہ علاقائی ترقی میں توازن قائم رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں بلوچستان کو سب سے زیادہ حصہ دیا جائے گا، اس کے بعد سندھ، پھر خیبر پختونخوا جبکہ پنجاب کو نسبتاً کم فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں؛حکومت کاروباری سرگرمیاں بڑھانے اور برآمدات کے فروغ پر توجہ دے رہی ہے، احسن اقبال
ان کے مطابق بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 265 ارب روپے، سندھ کے لیے 195 ارب روپے، خیبر پختونخوا کے لیے 98 ارب روپے اور پنجاب کے لیے 72 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر 150 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ سندھ میں سکھر-حیدرآباد موٹروے اور کراچی کے کے-فور منصوبے سمیت اہم انفراسٹرکچر پراجیکٹس پر کام کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اربن ڈویلپمنٹ، شاہراہوں اور آبپاشی کے منصوبے بھی آئندہ بجٹ کا حصہ ہوں گے تاکہ ملک بھر میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔








