مردان سے تعلق رکھنے والی صبا اقبال نے اپنے مرحوم بھائی مشال خان کا ادھورا خواب پورا کرتے ہوئے Toronto Metropolitan University سے جرنلزم کی ڈگری حاصل کر لی۔
صبا اقبال کی یہ کامیابی صرف ایک تعلیمی سنگِ میل نہیں بلکہ ایک جذباتی اور علامتی لمحہ بھی قرار دی جا رہی ہے۔ مشال خان خود صحافت کے طالب علم تھے اور سچ، تحقیق اور علم کے راستے پر آگے بڑھنے کا خواب رکھتے تھے، تاہم ان کی زندگی المناک انداز میں ختم ہو گئی تھی۔

خاندان اور قریبی حلقوں کے مطابق صبا اقبال نے اپنے بھائی کے خواب کو زندہ رکھتے ہوئے صحافت کے شعبے میں تعلیم مکمل کی اور ثابت کیا کہ علم و شعور کی جستجو کو رکاوٹوں سے نہیں روکا جا سکتا۔
مزیدپڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ ن نے 45 میں سے37 حلقوں کے ٹکٹ جاری کر دیے
سوشل میڈیا پر بھی صبا اقبال کی کامیابی کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے، جہاں صارفین اسے عزم، حوصلے اور تعلیم کی طاقت کی ایک متاثر کن مثال قرار دے رہے ہیں۔
صبا اقبال کی کامیابی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خواب اور نظریات افراد کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ عزم رکھنے والے لوگ انہیں آگے بڑھاتے ہیں اور نئی نسل کے لیے امید کی کرن بن جاتے ہیں۔
After my brother Mashal Khan’s lynching, my education was stopped for a year, but my dreams could not be silenced.
Journalism was Mashal’s passion. I promised to continue the journey he couldn’t finish.
Today, I graduate in Journalism. A promise made, a promise fulfilled. ❤️ pic.twitter.com/xxsdTfHPrk— Saba Mashal (@SabaIqb22831669) June 19, 2026








