بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بنوں، مسافر گاڑیوں کے قریب دھماکے، 7 افراد ہلاک، 6 زخمی ہوگئے

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں (Bunno Blast)کے قریب ڈومیل کے علاقے میں مسافر گاڑیوں کے قریب وقفے وقفے سے دو دھماکوں میں سات افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی (Yasir Afridi) نے مقامی صحافیوں سے گفتگو میں دھماکوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اُن کے بقول یہ واقعہ سنیچر کو ڈومیل کے علاقے میں تھانہ احمد زئی کی حدود میں پیش آیا ہے۔

علاقے سے تعلق رکھنے والے امن کمیٹی کے رہنما نور دراز نے صحافیوں کو بتایا کہ مقامی ڈرائیور اللہ نور کی گاڑی سواریوں کو لے کر روانہ ہوئی تھی اور جیسے ہی یہ مرکہ بیرہ کے پاس پہنچی وہاں دھماکہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس گاڑی میں ڈرائیور کے خاندان کے لوگ بھی تھے اور باقی سواریاں بھی موجود تھیں جن پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسافر گاڑی پر دھماکے کے بعد زخمیوں کو لے جانے والی گاڑی پر بھی کچھ فاصلہ پر ریموٹ کنٹرول سے دھماکہ کیا گیا ہے اس میں میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بنوں دھماکوں کی مذمت کی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

بنوں میں محکمہ صحت کے ترجمان نعمان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تین زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ہسپتال لایا گیا ہے جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

تاحال ان دھماکوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔
ڈومیل کا علاقہ بنوں شہر سے کوئی 18 کلومیٹر کے فاصلے پر بنوں پشاور روڈ پر واقع ہے جبکہ مرکہ بیرہ کا مقام ڈومیل سے آٹھ کلومیٹر دور ہے۔

مرکہ بیرہ بنیادی طور پر ایک بڑا درخت ہے اور مقامی سطح پر مرکہ بیرہ جرگے کا مقام ہے جہاں علاقے کے لوگ مل بیٹھ کر اپنے مسائل پر جرگے کرتے ہیں۔ مرکہ مشاورت کو کہا جاتا ہے جبکہ بیر کے درخت کو بیرہ کہا جاتا ہے۔

اس دھماکے کی نوعیت کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوئی ہیں ابتدائی طور پر پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ریموٹ کنٹرول سے دھماکے کیے گئے ہیں جبکہ مقامی لوگوں نے ان خدشات کا اظہار بھی کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مسلح شدت پسندوں نے بارودی سرنگیں نصب کی ہوں تاہم پولیس اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس کی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

ریجنل پولیس افسر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بکتر بند گاڑیاں، بم ڈسپوزل سکواڈ اور پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر موجود ہے، جہاں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:نیتن یاہو نے جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کا حکم دے دیا

بیان میں کہا گیا ہے کہ بم ڈسپوزل ٹیموں نے کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کرنے کے لیے علاقے کی مکمل تلاشی لی ہے۔