بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گلگت بلتستان پاور شیرنگ، وزارت اعلیٰ پی پی، آئینی عہدے ن لیگ کے حوالے

گلگت بلتستان میں سیاسی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان پاور شیئرنگ(Power sharing) کا اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔

باہمی اتفاقِ رائے سے طے پانے والے فارمولے کے تحت وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا عہدہ پیپلز پارٹی کے پاس ہوگا، جبکہ گورنر، اسپیکر اور لیڈر آف دی اپوزیشن کے عہدے مسلم لیگ (ن) کو دیے جائیں گے۔

دونوں جماعتوں نے ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکومت کے ذریعے خطے کی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔
اس مخلوط حکومت میں استحکام پاکستان پارٹی کی شمولیت بھی ہوگی جس کے لیے دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان مذاکرات ہو چکے ہیں مسلم لیگ نون کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے جبکہ ڈپٹی سپیکر کا عہدہ دینے کی بھی بلاول بھٹو زرداری خود پیشکش کر چکے ہیں ۔

گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہوتا ہے اس وقت گورنر کا عہدہ پیپلز پارٹی کے پاس ہے اور مہدی شاہ گلگت بلتستان کے گورنر کے عہدے پر فائض ہیں ان کا بیٹا بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے رکن اسمبلی منتخب ہوا ہے۔

نئی منتخب اسمبلی کے الف برداری کی تقریب بھی منعقد ہو رہی ہے جس کے بعد وزیر اعلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں پر انتخاب عمل میں لایا جائے گا مسلم لیگ نون حکومت سازی کے عمل میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی اور بعد ازاں اپوزیشن میں بیٹھ جائے گی۔

مزید پڑھیں:ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ: بنگلا دیش کے ہاتھوں 23 رنز سے پاکستان کو شکست

استحکام پاکستان پارٹی نے چار وزارتوں کا مطالبہ کر رکھا ہے پیپلز پارٹی نے فی الحال پہلے مرحلے میں دو وزارتیں دینے کی یقین دہانی کرا دی ہے گزشتہ رات پیپلز پارٹی کی قیادت اور ائی پی پی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن میں مختلف امور پر بات چیت کی گئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ائی پی پی مخلوط حکومت کا حصہ بنے گی