عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے آنے کے باوجود وفاقی حکومت کو پیٹرول(diesel) اور ڈیزل(Petrol) کی قیمتوں میں مزید کمی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مناسب ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونی والی کمی کا فائدہ عوام تک من وعن پہنچایا جا رہا ہے۔ تاہم، گزشتہ روز حکومت نے تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا، اور پیٹرول کی قیمت 299 روپے 50 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو اس کا پورا فائدہ نہیں پہنچایا جا رہا اور پیٹرولیم کمپنیوں کی مبینہ اجارہ داری کی وجہ سے عام شہری مہنگی ٹرانسپورٹ اور مہنگائی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔
جماعتِ اسلامی اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی یعنی بھاری ٹیکس لگا کر ”پیٹرول کو پیسہ بنانے کا غیر قانونی ذریعہ“ بنا رہی ہے، جو مہنگائی کے ستائے عوام پر بہت بڑا بوجھ ہے۔
مزیدپڑھیں:فیفا نے مسلمان فٹبالرز کے لیے ‘مین آف دی میچ’ ٹرافی تبدیل کردی
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کے فیصلے پر جب تنقید بڑھی تو وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا چارٹ شیئر کیا اور کہا کہ حکومت نہ تو کسی ایک شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر ناجائز بوجھ ڈال رہی ہے۔
برائے اطلاعِ عام: براہِ مہربانی اس ہفتے کیلئے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی پلیٹس قیمتیں ملاحظہ کریں۔ حکومت نہ تو کسی شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔ حکومت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے، صارفین تک کوئی بھی فائدہ… pic.twitter.com/NPtvwY6cgr
— Ali Pervaiz Malik (@AliPervaiz450) June 27, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنے عالمی معاہدوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن فائدہ عوام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے حکومت کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اب تک ڈیزل کی قیمت میں 200 روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 155 روپے فی لیٹر تک کی بڑی کمی کر چکے ہیں۔
حکومت کے اس مؤقف کے برعکس، سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے سوال اٹھایا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر آنے کے باوجود پاکستان میں پیٹرول اب بھی 300 روپے فی لیٹر کیوں ہے، یہ فائدہ عوام کو کیوں نہیں دیا جا رہا، کون منافع کما رہا ہے؟
Question is simple :
If international oil prices are at the level where they were before war started and the rupee is also trading at the same level against dollar, then why are poor Pakistanis being charged far more than what the price was before war ? Who is making extra…— Mohammad Zubair (@Real_MZubair) June 27, 2026
تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں 72 ڈالر فی بیرل گر چکی ہیں لیکن پاکستان کی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پہلے سستے اسٹاک پر قیمتیں بڑھا کر پیٹرول کمپنیوں کو اربوں کا فائدہ پہنچایا گیا اور اب پھر وہی کیا جا رہا ہے، عوام نقصان اٹھا رہے ہیں جبکہ کرپٹ لوگ اپنے فائدے کا تحفظ کر رہے ہیں۔
Global crude oil has dropped to around $72 per barrel, and fuel prices have fallen across much of the world. Yet Pakistan’s corrupt government has once again refused to pass any relief on to the public. After previously hiking fuel prices by Rs.137/litre on stock purchased at… pic.twitter.com/uj8vkXrlhC
— Haleem Adil Sheikh (@HaleemAdil) June 27, 2026
اسی طرح صحافی زاہد گشکوری نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیل کمپنیاں، ٹینکر مالکان اور بڑے ڈیلر جیت گئے ہیں اور عوام ہار گئے ہیں۔
تیل کمپنیاں، آئل ٹینکرز مالکان، بڑے ڈیلرز جیت گئے
عوام ہار گئی
عالمی منڈی میں قیمت کم ہونے کے باوجود پاکستان میں تیل کی قیمت کم نہ کرنے کا فیصلہ
— Zahid Gishkori (@ZahidGishkori) June 26, 2026
گزشتہ ہفتے حکومت اور پاکستان کی تیل کمپنیوں کے درمیان قیمتوں کے حساب کتاب پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں نے الزام عائد کیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے عالمی قیمتوں کا غلط حساب لگا کر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ضرورت سے زیادہ کم کر دیں، جس سے کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھا۔
کمپنیوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ہفتہ قبل پیٹرول کی قیمت اصل حساب سے گیارہ روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت تقریباً پینتالیس روپے فی لیٹر زیادہ کم کی گئی تھی۔ تاہم اوگرا کی طرف سے ان الزامات پر ابھی تک کوئی سرکاری جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز کے راستے بند ہونے کے خدشات کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا ہوا تھا، جس کے بعد حکومت نے ہر جمعہ کی رات پیٹرول کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لینا شروع کیا تھا۔
اپریل کے مہینے میں پیٹرول 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا، جس پر شدید عوامی غصے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے چوبیس گھنٹوں کے اندرپیٹرولیم لیوی پر 80 روپے کم کر کے پیٹرول 378 روپےفی لیٹر کر دیا تھا۔
اب حکومت عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے، لیکن عوام تاحال سستے پیٹرول کے منتظر ہیں۔








