بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

برطانوی حکومت اسائلمز کو روزگار ،رہائش اور حکومتی امداد واپس کرے، مظاہرین

برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ میں (Asylum)حاصل کرنے والے افراد جب روزگار حاصل کر کے کمانا شروع کریں گے تو انہیں اپنی رہائش اور حکومتی امداد کے اخراجات میں سے تقریباً 10,000 پاؤنڈ واپس ادا کرنا ہوں گے۔

نئے قوانین جو امیگریشن اینڈ اسائلم بل کا حصہ ہیں، کے تحت ایسے بالغ افراد جن کے پاس مناسب مالی وسائل ہوں گے وہ یہ رقم قسطوں میں ادا کریں گے، یہ قانون ان پناہ گزینوں پر لاگو ہوگا جنہیں برطانیہ میں کام کرنے کا حق حاصل ہے اور انہیں مستقل رہائش کے اہل ہونے سے پہلے یہ رقم ادا کرنا ہوگی۔

برطانوی ہوم سیکرٹری (وزیر داخلہ) شبانہ محمود نے کہا کہ یہ تبدیلیاں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ پناہ کی سہولت ایک حق ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے، تاہم ہوم آفس نے ابھی یہ طے نہیں کیا گیا ہے کہ ماہانہ اقساط شروع کرنے کے لیے کم از کم کتنی آمدنی ضروری ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق جن افراد کے پناہ کے دعوے مسترد کردیے جائیں گے اور ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے انھیں بھی برطانیہ واپس آنے کی صورت میں پہلے اخراجات ادا کرنا ہوں گے، ہوم آفس کے مطابق گزشتہ سال پناہ گزینوں کی رہائش اور مدد پر ٹیکس دہندگان کے تقریباً 4 بلین پاؤنڈ خرچ کیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق سرکاری رہائش میں ایک پناہ گزین کو ایک رات ٹھہرانے کی اوسط لاگت 23.25 پاؤنڈ جبکہ ہوٹل میں یہ لاگت 144 پاؤنڈ ہے، اسی طرح ہفتہ وار گزارہ الاؤنس ہر فرد کے لیے 9.95 سے 49.18 پاؤنڈ کے درمیان ہوتا ہے۔

ریفیوجی کونسل نے ان منصوبوں کو غیر منصفانہ اور ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پناہ گزینوں پر ایک اضافی ٹیکس کے مترادف ہے، جس سے خاندانوں کے لیے اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنا اور خودمختار بننا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے مائیگریشن آبزرویٹری نے بھی سوال اٹھایا کہ حکومت اس نظام کے ذریعے حقیقت میں کتنی رقم واپس حاصل کر سکے گی، کیونکہ پناہ گزینوں میں روزگار اور آمدنی کی شرح نسبتاً کم ہے۔

ہوم آفس کے مطابق 2015 سے 2023 کے درمیان پناہ حاصل کرنے والے 16 سے 64 سال کی عمر کے تقریباً 25 فیصد افراد اسی سال ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ دو سال بعد یہ شرح بڑھ کر 50 فیصد ہو گئی، آٹھ سال بعد ملازمت کرنے والوں میں 37 فیصد کل وقتی ملازمت کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب نے کنٹرول آف ہیبیچوئل افینڈرز بل روک دیا، ذرائع

ان کی اوسط سالانہ آمدنی 23 ہزار پاؤنڈ تھی، جبکہ صرف 40 فیصد افراد کم از کم اجرت سے زیادہ آمدنی حاصل کر رہے تھے، شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے کہا ہے کہ لیبر پارٹی نے کنزرویٹو پارٹی کی ایک اور پالیسی اپنا لی ہے، ان کے مطابق یہی تجویز گزشتہ سال امیگریشن بل میں ان کی جماعت نے پیش کی تھی، لیکن اس وقت لیبر نے اسے مسترد کر دیا تھا۔