ایران کے دارالحکومت تہران(Tehran) میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور نمازِ جنازہ کے دوران ہر طرف لال رنگ کے بینر اور جھنڈے دکھائی دے رہے ہیں، جنہیں دیکھ کر بہت سے لوگ ان کا مطلب جاننا چاہتے ہیں۔
ایران میں سرخ رنگ کے جھنڈے کا ایک خاص اور بڑا مطلب ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ کسی کا خون ناحق بہایا گیا ہے اور جب تک اس کا بدلہ یا انتقام نہ لے لیا جائے، یہ جھنڈا نہیں اتارا جاتا۔
تہران کے بڑے امام خمینی مصلیٰ میں جمع ہونے والے لاکھوں سوگواروں نے ان لال جھنڈوں کو ہاتھوں میں اٹھا کر اپنے لیڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا کھلا اعلان کیا ہے۔

ان سرخ جھنڈوں پر خاص نعرے لکھے ہوئے ہیں جن میں سب سے زیادہ نمایاں نعرہ ’یا لثارات الحسین‘ ہے، جس کا مطلب ہے ’اے حسین کا بدلہ لینے والوں‘۔
اس کے ساتھ ہی ایک نیا نعرہ ’یا لثارات الخامنہ ای‘ بھی لکھا دیکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ’اے خامنہ ای کا بدلہ لینے والوں‘۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یہ نعرہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کی یاد دلاتا ہے، جنہیں سن 680 ہجری میں کربلا کے میدان میں شہید کیا گیا تھا اور ان کی یہ قربانی ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستان نے چاند پر پہنچنے میں ناسا کی مدد کیسے کی؟
پرانے زمانے میں بھی جب جنگجوؤں کو بدلہ لینے کے لیے اکٹھا کرنا ہوتا تھا تو یہی نعرہ لگایا جاتا تھا، اور اب خامنہ ای کے نام کے ساتھ اس نعرے کو ملا کر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی عوام اپنے لیڈر کو مارنے والوں سے سیدھا اور سخت بدلہ مانگ رہے ہیں۔

جنازے کے اس بڑے اجتماع میں ان لال جھنڈوں کے ساتھ ساتھ ایران کے قومی جھنڈے اور پیلے رنگ کے جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں، جو کہ حزب اللہ تنظیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ان تمام جھنڈوں کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اس نقصان پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔








