مظفرآباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے لاہور میں ترقیاتی کام کیے ہوں گے لیکن آزاد کشمیر میں کوئی نمایاں کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر کو پنجاب یا سندھ نہیں بنانا چاہتے بلکہ اسے آزاد کشمیر کی شناخت کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔
مظفرآباد میں پیپلز پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ انتخابات کے بعد ایک آئینی کنونشن بلایا جائے گا جس میں حکومت، اپوزیشن، مہاجرین کے نمائندوں، وکلا اور سول سوسائٹی کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ کشمیر میں امن، انصاف اور عوامی حقِ حکمرانی قائم ہو۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ کشمیر کے فیصلے کشمیر کی منتخب اسمبلی کرے گی اور حقِ حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ عوام کا ووٹ ان کے حق میں استعمال ہو۔
مزید پڑھیں:کشمیر کےحالات کا حل صرف پیپلزپارٹی کے پاس موجود ہے: بلاول بھٹو زرداری
بلاول بھٹو نے کشمیری عوام کے لیے حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر منصوبے میں مقامی لوگوں کو روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ مظفرآباد اور میرپور میں انٹرنیٹ کی سہولت بحال کی گئی جبکہ پونچھ میں بھی انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا تاکہ کشمیری عوام دنیا سے جڑے رہیں۔
ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ لاہور کے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن آزاد کشمیر کے عوام پوچھیں گے کہ یہاں کیا کام کیا گیا۔ انہوں نے سی ایم ایچ فلائی اوور منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مظفرآباد کے عوام اس منصوبے کی صورتحال سے آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں جامعات سمیت کئی منصوبے دیے جبکہ دیگر جماعتوں نے صرف دعوے کیے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر کو اس کی اپنی شناخت کے ساتھ ترقی دینی ہوگی۔
انتخابی معاملات پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ 2 اگست سے قبل انتخابات کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات شفاف ہیں تو ریکارڈ سامنے لانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کو بھی بائیکاٹ ختم کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ الیکشن میں حصہ لے اور اصلاحات کے لیے ساتھ مل کر کام کرے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ ہر اس جماعت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں جو ناانصافی کا شکار ہے، تاہم مقصد صرف شفاف اور منصفانہ انتخابات کا ہونا چاہیے۔









