مائیگرین ایک ایسا شدید اعصابی عارضہ ہے جسے عام طور پر آدھے سر کا درد کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں درد اچانک شروع ہو سکتا ہے اور اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ متاثرہ شخص کے لیے روزمرہ کے معمولات انجام دینا یا کسی کام پر توجہ مرکوز رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ درد عموماً سر کے ایک حصے سے شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات ایک آنکھ کے پیچھے سے دوسری جانب تک پھیل جاتا ہے۔
مائیگرین کے دوران تیز روشنی، اونچی آواز یا شدید بو تکلیف میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، اسی لیے زیادہ تر مریض اندھیرے اور پرسکون ماحول میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ متلی، قے آنے کا احساس اور جسمانی کمزوری جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیگرین دراصل دماغ کی غیر معمولی حساسیت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اگر یہ شکایت بار بار ہونے لگے یا معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے لگے تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ دائمی مائیگرین میں مبتلا افراد مہینے کے کئی دن اسی تکلیف کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 15 فیصد افراد مائیگرین کا شکار ہیں، جبکہ ہر دو میں سے ایک شخص زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر شدید سر درد کا تجربہ کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ، کمزور بینائی، تیز روشنی یا شور، دھواں یا تیز خوشبو، نیند کی کمی، پانی کی کمی، طویل عرصے تک بھوکا رہنا، کیفین کا زیادہ استعمال، ہارمونز میں تبدیلی اور چینی یا الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال مائیگرین کو متحرک کرنے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔
علاج کے حوالے سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مائیگرین کے لیے مخصوص ادویات زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہیں، جو دماغ میں موجود مخصوص سیروٹونن ریسیپٹرز پر اثر انداز ہو کر درد کی شدت کم کرتی ہیں۔ تاہم یہ ادویات صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کرنی چاہئیں۔
مزید پڑھیں:امریکا: پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
ماہرین کے مطابق پیراسیٹامول یا اسپرین جیسی عام درد کش ادویات وقتی طور پر سر درد میں آرام تو دے سکتی ہیں، لیکن دائمی مائیگرین کا مکمل علاج نہیں کرتیں۔ ان کے استعمال کے باوجود متلی، روشنی سے حساسیت، تھکن اور دیگر علامات برقرار رہ سکتی ہیں، اس لیے بار بار مائیگرین کی صورت میں خود علاج کرنے کے بجائے باقاعدہ طبی معائنہ اور مناسب علاج ضروری ہے۔









