سپریم کورٹ نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیاہے جس میں بانی پی ٹی آئی کو 2 دن میں شفاء ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیاہے ۔
حکمنامے کے مطابق شفاء اسپتال کے جنرل فزیشن، جنرل سرجن، آئی اسپیشلسٹ پر مشتمل بورڈ بنایا جائے،بورڈ میں کارڈیالوجسٹ، میڈیسن اسپیشلسٹ کو شامل کیا جائے جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ کوبھی میڈیکل بورڈ کےساتھ منسلک کیا جائے۔
شفاء انٹرنیشنل کے اخراجات بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ ادا کریں گے، آئندہ سماعت تک بانی کےاہل خانہ، پارٹی ارکان صحت کی تفصیلات نہیں بتائیں گے، ہفتے میں ایک دن بانی پی ٹی آئی کی اہلخانہ سے ملاقات کرائی جائے،
یقینی بنایا جائے کہ ہسپتال کے باہر کوئی سیاسی اجتماع نہیں ہو گا، بانی کی میڈیکل رپورٹس کو سیاست کیلئےاستعمال نہیں کیا جائےگا، یقین دہانیوں کی خلاف ورزی ہوئی تو دیا گیا ریلیف واپس ہوسکتا ہے، حکومت کولگےکہ ریلیف کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو درخواست دے سکتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور انکے اہلخانہ بھی شکایت کی صورت میں درخواست دے سکتے ہیں۔
عدالت نے حکومت کو ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم دیا اور عمران خان کے خلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا تمام میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دیاہے ۔ مقدمہ کی مزید 16 ستمبر کو ہوگی۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت اور اہل خانہ سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی کی میڈیکل رپورٹس پبلک نہ ہونے کی گارنٹی کون دے گا؟ کون گارنٹی دے گا کہ میڈیکل رپورٹ سیاست کیلئے استعمال نہیں ہوگی؟ جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سیاسی جماعت میڈیکل رپورٹ سیاست کیلئے استعمال نہیں کرے گی، میڈیکل رپورٹ ڈاکٹرز اور عمران خان کی فیملی کا معاملہ ہے۔
جسٹس نعیم افغان نے استفسار کیا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اسپتال کے باہر مجمع نہیں لگے گا؟ اسپتال میں اور مریض بھی ہوتے ہیں کوئی ڈسٹرب نہ ہو، پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری سیاست کے اصول الگ ہیں،صحت پر سیاست نہیں کریں گے۔
اس سے قبل عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی تمام میڈیکل رپورٹس، 3 سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور بچوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کرانے کی تفصیلات بھی منگوالی۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ جب میڈیکل ریکارڈ عدالت میں آجائے گا وہ خفیہ نہیں رہے گا۔ جسٹس نعیم افغان نے فریقین سے کہا کہ بانی کی صحت پر سیاست نہیں ہوگی۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے، تمام ریکارڈ جمع کرایا جائے۔ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد، موسلادھار بارش، پارلیمنٹ ہاؤس کی چھتیں ٹپکنے لگیں، لابی میں پانی جمع
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی، جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو کیا آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔








