بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نوشہرہ، 3 پولیس اہلکار لاپتا، شبہ ہے خارجیوں نے اغوا کر لیا، ایس ایچ او

خیبرپختونخوا کے شہر نوشہرہ کے تھانہ نظام پور کے 3 پولیس اہلکار لاپتا ہو گئے ہیں جن میں تھانے کا محرر اور 2 کانسٹیبل شامل ہیں۔پولیس کے مطابق اہلکاروں کے اغوا کا شبہ ہے اور اس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تھانہ نظام پور کے ایس ایچ او کی جانب سے درج کی گئی انفارمیشن رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ روز شام 4 بجے کے قریب پیش آیا۔رپورٹ کے مطابق تھانہ نظام پور کے محرر کو بذریعے فون کال اطلاع ملی کہ “شر پسند عناصر (دہشت گرد) بمقام کوہاٹ باونڈری پہاڑی سلسلہ میں موجود ہیں۔”

اس اطلاع پر محرر نعیم اللہ کانسٹیبل عامر اور نور اسلام کو ساتھ لے کر پرائیوٹ موٹر کار پر نگرانی کے لیے کوہاٹ باونڈری پیران کی طرف چلے گئے ۔تقریباً شام 6 نجے تھانہ گمبٹ ضلع کوہاٹ کے اسٹاف نے تھانہ نظام پور کے ایس ایچ او کو اطلاع دی کہ آپ کے ناکے یا موبائل کے جونواں کو ٹی ٹی پی کوہاٹ والے لے کر گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کی اطلاع پولیس کی ہائی کمانڈ کو کر دی گئی ہے اور مغوی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔پولیس کے مطابق اس سلسلے میں بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور رات بھر سرچ آپریشن کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث انہیں آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث پولیس اور سکیورٹی فورسز کی مزید نفری نوشہرہ اور کوہاٹ کی سرحد پر واقع پہاڑی علاقوں میں پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق اہلکاروں کی بازیابی کے لیے مقامی عمائدین اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات بھی شروع ہو گئے ہیں۔حالیہ عرصے میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ فتنہ الخوارج کی جانب سے کے پی پولیس کے خلاف حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔

16 ستمبر کو ضلع کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شہید جبکہ 103 افراد زخمی ہوئے۔ 2 دن پہلے یعنی اکتوبر 7 کواسی ضلع میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہوئے۔

اسی طرح 28 ستمبر کو ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہوئے۔ اس سے قبل ستمبر 26 کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خود کش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 35 زخمی ہوئے۔

مزیدپڑھیں:مشرق وسطیٰ کشیدگی، پی آئی اے کی ریاض کیلئے پروازیں عارضی طور پر معطل

دوسری جانب سکیورٹی فورسز کی ‘عزم استحکام ویژن’ کے تحت فتنہ الخوارج کیخلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور آج ہی فورسز نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 7دہشتگرد ہلاک کیے۔