بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ہمت ہے تو کل صوابی کراس کرکے دکھائیں، فیصل کنڈی کا پی ٹی آئی کو چیلنج

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمت ہے تو کل صوابی کراس کرکے دکھائیں۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس میں احتجاج، ممکنہ مارچ اور گورنر ہاؤس کے گھیراؤ سے متعلق دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “آپ نے 9 مئی کیا ہے، ہمیں پتا ہے آپ سے کیسے نمٹنا ہے۔”

پاکستان تحریک انصاف کا 4 اکتوبر سے شروع ہونے والا لانگ مارچ لکی مروت، کرک، کوہاٹ، متنی اور خیبر سے ہوتا ہوا رات گئے صوبائی دارالحکومت پشاور پہنچ گیا۔ شرکا آج چارسدہ کی جانب روانہ ہونگے۔ پی ٹی آئی کے نئے پلان کے مطابق یہ لانگ مارچ اب چارسدہ ، پھر مردان، صوابی اور ملاکنڈ کی طرف روانہ ہو گا،ممکنہ طور پر 12 اکتوبر تک نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اساتذہ، ڈاکٹرز اور بلدیاتی نمائندے احتجاج کر رہے ہیں جبکہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 9 مئی جیسے اقدامات کی کوشش کی گئی تو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ گورنر نے کہا کہ گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکی دینے والوں کو بھی دیکھ لیں گے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ “پشاور، آپ لوگ اب چھپ کر کہاں جائیں گے؟” انہوں نے مزید کہا کہ انہیں گورنر ہاؤس کا دفاع کرنا آتا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اپنے وزیروں کا تحفظ نہیں کرتے تو صوبے کے عوام کا کیا تحفظ کریں گے؟

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا نے ممکنہ صوابی مارچ کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “اگر ہمت ہے تو کل صوابی کراس کرکے دکھائیں۔”

انہوں نے کہا کہ “ہم آپ کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ آپ کو یاد رہے گا۔” گورنر نے مخالفین کے لانگ مارچ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “لکی ایرانی سرکس” قرار دیا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ بعض لوگ باہر جا کر کہتے ہیں کہ ان کی تو ایس ایچ او بھی نہیں سنتا۔ انہوں نے صوابی کی جانب مارچ کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ صوابی کی طرف منہ تو کریں، انہیں لگ پتا جائے گا۔”

فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ “وزیراعلیٰ صرف پیسے بنانے کے لیے بیٹھے ہیں۔”

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کے بغیر کوئی صوبہ نہیں چل سکتا، صوبائی حکومت کو انتظامی امور میں جو مشکلات درپیش ہیں وہ وفاق کو بتائے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ یہ لوگ وفاق کو صوبے کے مسائل نہیں بتاتے اور پھر کہتے ہیں کہ ہماری کوئی نہیں سنتا۔ جنوبی اضلاع میں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، لیکن یہ لوگ ان واقعات کی مذمت تک نہیں کرتے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ میرا صوبہ جل رہا ہے اور یہ لوگ عیاشیاں کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف پولیس کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتی ہے جبکہ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی جائے۔

فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے اہم رہنما گھروں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وزیراعلیٰ کی بات ایس ایچ او نہیں مانتا، اسے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صرف مال بنانے کے لیے بیٹھی ہے، تاہم صوبے کا تحفظ کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نااہل لوگوں کو سکھائیں گے کہ صوبہ کیسے چلایا جاتا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ وہ ڈائیلاگ کے بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے مخالفین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر جرات ہے تو قائدین سامنے آئیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے تنقید کرنے والوں کو آئین پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جب چاہیں گے سکیورٹی سے متعلق اجلاس بلائیں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت کو پالیسی کابل اور جلال آباد سے ملتی ہے اور کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

گورنر ہاؤس پشاور کے ممکنہ گھیراؤ سے متعلق سخت بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ، صوابی میں پیش قدمی اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان سپرلیگ سیزن 12 کب شروع ہوگا؟ تاریخ کا اعلان کردیا گیا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اس سے قبل بھی لانگ مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے صوبے میں دہشت گردی کے خدشات اور امن و امان کی صورتحال کا حوالہ دے چکے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ 4 اکتوبر کو ہونے والی ملاقات میں بھی لانگ مارچ اور صوبے کی سکیورٹی صورتحال زیر بحث آئی، جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے آئینی امکانات کا ذکر بھی سامنے آیا۔