لاہور ہائیکورٹ(Lahore High Court) نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم راجہ شاہد کی فوجداری اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا۔
جسٹس محمد امجد رفیق نے قرار دیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج فوجداری مقدمات میں بنیادی دستاویزی شہادت بن سکتی ہے اور اگر ویڈیو مستند ہو، ملزم کی شناخت قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت ہو جائے اور قانونی تقاضے پورے ہوں تو عینی شاہدین کی عدم موجودگی میں بھی سزا دی جا سکتی ہے، تاہم موجودہ مقدمے میں سی سی ٹی وی فوٹیج، گواہوں کے بیانات اور طبی شواہد میں تضادات کے باعث استغاثہ ملزم کے خلاف قتل کا الزام شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ محض جسمانی ساخت میں مشابہت یا جزوی اعتراف کی بنیاد پر کسی شخص کو قتل کا مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کے چہرے واضح نہیں تھے، اس لیے ملزم کی شناخت کے لیے قابلِ اعتماد شواہد ضروری تھے۔
عدالت کے مطابق گواہوں کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں فائرنگ اور ملزمان کے فرار ہونے کے واقعات سے متعلق اہم تضادات سامنے آئے، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے کے مطابق ملزم راجہ شاہد نے جائے وقوعہ پر موجودگی اور مقتول کو لاتیں مارنے کا اعتراف کیا، تاہم اس نے فائرنگ کرکے قتل کرنے سے انکار کیا، طبی شواہد بھی اس امر کی تصدیق نہیں کرتے تھے کہ زمین پر گرنے کے بعد مقتول کو مزید گولیاں ماری گئیں، ان حالات میں استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد ملزم کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں تھے۔
مزید پڑھیں:مولانا فضل الرحمان کے بغیر خیبرپختونخوا حکومت بنی اور چلے گی بھی، گورنر فیصل کریم کنڈی
عدالت نے قرار دیا کہ اگر سی سی ٹی وی فوٹیج میں چہرے واضح نہ ہوں تو فرانزک طریقوں کے ذریعے ویڈیو کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم ویڈیو کی صداقت، اصل ریکارڈنگ کی سالمیت اور شواہد کی تحویل کا تسلسل ثابت کرنا ضروری ہے تاکہ فوٹیج کی قانونی حیثیت اور قابلِ اعتماد ہونے کا تعین کیا جا سکے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فوجداری مقدمات میں ملزم کے خلاف الزام شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے اور اگر شواہد کی جانچ کے بعد ایک معقول شک بھی باقی رہ جائے تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمے میں شواہد کے تضادات اور شناخت کے حوالے سے موجود خامیوں کے باعث ملزم کو سزا برقرار رکھنا ممکن نہیں، ٹرائل کورٹ نے راجہ شاہد کو 30 مارچ 2024 کو قتل کے مقدمے میں عمر قید اور تین لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی تھی، جسے لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا۔
استغاثہ کے مطابق مقتول رانا محمد نعیم قیصر کو 18 ستمبر 2022 کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا، مقتول اور ملزم کے درمیان سابقہ جھگڑے کو واردات کا محرک قرار دیا گیا، جبکہ واقعے کا مقدمہ تھانہ مغلپورہ لاہور میں درج کیا گیا تھا۔









