بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مولانا فضل الرحمان سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ گورنر راج کو مالِ غنیمت سمجھیں گے، طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری(Talal Chaudhry) نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کو ’مالِ غنیمت‘ سمجھ کر حصے مانگنا درست نہیں، یہ سیاسی فائدے کے بجائے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قائم کیا گیا انتظامی بندوبست ہے۔

جڑانوالہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کے لیے متعدد کوششیں کیں۔ ان کے بقول وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کے احترام میں گورنر راج کے فیصلے سے پہلے بھی مشاورت کی کوشش کی اور کابینہ کے اجلاس میں بھی ان کی تجویز پر غور کیا گیا، تاہم رابطے کے باوجود بات آگے نہ بڑھ سکی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کسی سیاسی جماعت کی حکومت گرانے یا اپنی حکومت بنانے کے لیے نہیں لگایا گیا، بلکہ اس کا مقصد دہشتگردی پر قابو پانا ہے، جس کے باعث بچے اسکول نہیں جا پا رہے، دفاتر نہیں کھل رہے، کاروبار متاثر ہو رہے ہیں اور شہریوں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو رہی ہے۔

مزیدپڑھیں:خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ

طلال چوہدری نے مولانا فضل الرحمان کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ وہ گورنر راج کو ’مالِ غنیمت‘ سمجھیں گے اور اس میں اپنے حصے کا مطالبہ کریں گے۔

انہوں نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خلاف تحریک طالبان پاکستان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے درمیان تعلقات کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ تاہم ان کے اس مؤقف کی آزادانہ تصدیق نیوز کانفرنس کے فراہم کردہ متن میں موجود نہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت نے یہ فیصلہ تمام دستیاب راستے آزمانے کے بعد کیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد صوبے میں امن قائم کرنا اور شہریوں کو دہشتگردی سے محفوظ بنانا ہے۔