بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکی بینکوں میں غیر مجاز اے آئی ایجنٹس کی سرگرمیاں ڈیٹیکٹ، مالیاتی اداروں میں تشویش کی لہر

واشنگٹن: امریکہ کے بڑے مالیاتی اداروں اور بینکوں نے صارفین کے کھاتوں کے اندر غیر مجاز تھرڈ پارٹی مصنوعی ذہانت (AI) ایجنٹس کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے، جو بظاہر صارفین کی دی گئی ہدایات سے ہٹ کر یا خود مختارانہ طور پر کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد بینک آف امریکہ، جے پی مورگن چیس، ویلز فرگو اور مورگن اسٹینلے سمیت اہم ترین امریکی بینک ان پوشیدہ سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں۔

حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ کے سرکردہ بینکوں نے ایسے متعدد واقعات کا سراغ لگایا ہے جہاں نامعلوم یا غیر مجاز مصنوعی ذہانت (AI) کے سافٹ ویئر سسٹمز اور اے آئی ایجنٹس صارفین کے بینک اکاؤنٹس کے اندر سرگرم پائے گئے ہیں۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، یہ مسئلہ اس وقت سنگین صورت اختیار کر رہا ہے جب تھرڈ پارٹی اے آئی ٹولز یا اسسٹنٹس صارفین کی جانب سے دی گئی لاگ ان تفصیلات اور پاس ورڈز کا استعمال کرتے ہوئے براہ راست ان کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

حفاظتی چیلنجز اور بینکوں کا ردعمل:
بینکنگ حکام کے لیے سب سے بڑا اور پیچیدہ چیلنج یہ تمیز کرنا بن گیا ہے کہ آیا کوئی خاص اے آئی ایجنٹ واقعی کسی صارف کی اپنی ہدایات پر عمل کر رہا ہے، یا وہ مجاز حدوَد سے تجاوز کر کے اپنے طور پر غیر متوقع یا غیر مجاز سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کچھ بینکوں نے ایسے واقعات بھی ٹریک کیے ہیں جہاں ان سسٹمز نے کسٹمر سروس کال سینٹرز سے رابطہ کیا یا صارفین کی براہ راست نگرانی یا اجازت کے بغیر کام کرنے کی کوشش کی۔

اس بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، مورگن اسٹینلے، سٹی گروپ، اور بینک آف امریکہ جیسے بڑے ادارے اپنے پلیٹ فارمز پر تھرڈ پارٹی اے آئی ایجنٹس کی رسائی کو محدود کرنے اور سخت حفاظتی پالیسیاں اپنانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ زیادہ تر بینک اب مکمل کنٹرول دینے کے بجائے صرف “ریڈ اونلی” (Read-Only) رسائی کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز صارفین کی مالیاتی معلومات تو دیکھ سکیں لیکن فنڈز کی منتقلی یا دیگر مالیاتی لین دین پر ان کا کوئی اختیار نہ ہو۔

صارفین کے لیے انتباہ:
مالیاتی اداروں کے ترجمانوں اور سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی لاگ ان معلومات، یوزر نیم اور پاس ورڈز کسی بھی غیر مصدقہ اے آئی ٹول یا تھرڈ پارٹی ایپلیکیشن کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں۔ بینکوں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے دور میں اکاؤنٹس کی حفاظت کو یقینی بنانا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے، جس کے لیے صارفین کا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ریگولیٹری اداروں اور ماہرین کی تشویش:
اس پیش رفت نے نہ صرف نجی بینکوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ وفاقی ریگولیٹری اداروں (جیسے کہ فیڈرل ریزرو اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن) کی بھی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ایجنٹس کا مالیاتی اداروں کے نظام میں اس طرح غیر مجاز داخلہ فنانشل سیکیورٹی اور سائبر کرائم کے خطرات کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔ ریگولیٹرز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا بینکوں کے لیے ایسے سسٹمز کی شناخت اور انہیں بلاک کرنے کے لیے کوئی یونیورسل یا یکساں ضابطہ کار وضع کیا جائے یا نہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں اور اے آئی ڈویلپرز کا مؤقف:
دوسری جانب، مصنوعی ذہانت کی جدید ایپلیکیشنز تیار کرنے والی بڑی ٹیک کمپنیاں اور اسٹارٹ اپس اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ صارفین کو مالیاتی امور میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ہی یہ ٹولز بنا رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اے آئی ایجنٹس صارفین کو ان کے بجٹ، بلوں کی ادائیگی اور اخراجات کا بہتر انداز میں انتظام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، وہ اس بات پر بھی متفق ہیں کہ صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بینکوں اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان بہتر کوآرڈینیشن کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ فراڈ سے بچا جا سکے۔

آئندہ کا لائحہ عمل:
آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ بڑے امریکی بینک اے آئی ایجنٹس کی شناخت کے لیے جدید ترین بائیو میٹرک تصدیق اور سخت ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن (MFA) کے اصول نافذ کریں گے۔ اس سے نہ صرف غیر مجاز اے آئی سسٹمز کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ صارفین کے اثاثے بھی محفوظ رہ سکیں گے۔