عالمی مارکیٹ میں بدھ کو سونے کی قیمت (Gold Rates)میں کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ گزشتہ سیشن میں تقریباً ایک فیصد اضافے کے بعد تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو تقویت دی، جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق فیصلے کے منتظر ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گرینچ معیاری وقت کے مطابق صبح 3 بج کر 47 منٹ پر اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,045.29 ڈالر فی اونس رہی، جبکہ دسمبر میں فراہمی کے لیے امریکی سونے کے سودے 0.4 فیصد گر کر 4,059 ڈالر فی اونس پر آگئے۔
اے این زیڈ کی تجزیہ کار سونی کماری نے کہا کہ سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ شرح سود کی توقعات اور توانائی کی بلند قیمتوں سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے خدشات کے زیر اثر ہے۔ ان کے مطابق اس صورت حال میں فیڈرل ریزرو محتاط رویہ اختیار کرسکتا ہے، جو مختصر مدت میں سونے کی قیمتوں کے لیے اہم رکاوٹ ہے۔
بدھ کو سعودی عرب میں ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے مشرق وسطیٰ میں رسد کے خطرات سے متعلق خدشات بڑھ گئے۔ توانائی کی بلند قیمتیں شرح سود طویل عرصے تک بلند رہنے کے امکانات بڑھاتی ہیں، جس سے سونے جیسے ایسے اثاثوں میں سرمایہ کاری کی کشش کم ہوتی ہے جو باقاعدہ منافع نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں: سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ہاں 21 سال بعد بیٹے کی پیدائش
سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کے فیصلے کے علاوہ جمعرات کو جاری ہونے والے ذاتی کھپت کے اخراجات (پی سی ای) کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو امریکی مہنگائی کا اہم پیمانہ ہیں۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.6 فیصد کمی سے 54.06 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.4 فیصد گر کر 1,533.64 ڈالر اور پیلیڈیم 0.5 فیصد اضافے سے 1,030.80 ڈالر فی اونس ہوگیا۔









