سندھ کے شہر حیدرآباد میں علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے(Old National Highway) تک زیرِ تعمیر سڑک کے عین درمیان میں بجلی کے کھمبوں کی موجودگی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بلدیاتی اداروں کی منصوبہ بندی اور انجینئرنگ کے معیار پر شدید سوالات اٹھ گئے ہیں
اور سوشل میڈیا صارفین کو بھی تفریح کا ایک نیا بہانہ مل گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے لیکن کئی مقامات پر بجلی کے کھمبے سڑک کے وسط میں موجود ہیں اور گاڑیاں بمشکل ہی وہاں سے گزر پا رہی ہیں۔
ویڈیو کے سامنے آنے پر شہریوں کی جانب سے شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر شمع جونیجو نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”میں حیدرآباد کی اس کھمبوں والی سڑک کی ویڈیوز کو اے آئی سمجھ کر اگنور کررہی تھی لیکن یہ شاہکار تو اصلی ہے۔ گینیز بُک والوں کو یہ انجنیئرنگ دکھا دیں، ورلڈ ریکارڈ بن جائے گا۔“
میں حیدرآباد کی اس کھمبوں والی سڑک کی ویڈیوز کو اے آئی سمجھ کر اگنور کررہی تھی لیکن یہ شاہکار تو اصلی ہے
گینیز بُک والوں کو یہ انجنیئرنگ دکھا دیں، ورلڈ ریکارڈ بن جائے گا۔ pic.twitter.com/jc9KLpOnYv— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) October 28, 2026
اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما واسع جلیل نے لکھا کہ ”حیدرآباد میں واقع نو تعمیر شدہ روڈ سندھ کے انجینیروں کی کمال مہارت اور ٹیکنالوجی کی اعلیٰ مثال ہے جو پیپلز پارٹی کے ترقیاتی تصور کی بہترین عکاسی کرتا ہے“۔
حیدرآباد میں واقع نو تعمیر شدہ روڈ سندھ کے انجینیروں کی کمال مہارت اور ٹیکنالوجی کی اعلیٰ مثال ہے جو پیپلز پارٹی کے ترقیاتی تصور کی بہترین عکاسی کرتا ہے#JeayBhutto pic.twitter.com/RKCNs2fRqa
— Wasay Jalil (@WasayJalil) October 27, 2026
شائن اسٹائن نامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی ایک طنزیہ تبصرہ کیا گیا۔ جس میں سندھ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا گیا کہ ”بچپن میں ایسے ویڈیو گیم ہوتے تھے، سندھ میں انہیں ترقیاتی کام کہتے ہیں“۔
بچپن میں ایسے ویڈیو گیم ہوتے تھے
سندھ میں انھیں ترقیاتی کام کہتے ہیں pic.twitter.com/2xV8LtoMxL— شائن سٹائن (@Shine__Stine) October 27, 2026
پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین شہیر سیالوی نے بھی طنز کے تیر چلاتے ہوئے لکھا: ”بس گٹر لائن کی کمی رہ گئی تھی درمیان میں“۔
روڈ کیسے بنائے جاتے ہیں یہ کوئی سندھ حکومت سے سیکھے، بس گٹر لائن کی کمی رہ گئی تھی درمیان میں 😋🤦 pic.twitter.com/HEsISMLGkG
— Shaheer Haider Malik Sialvi (@ShaheerSialvi) October 27, 2026
شہریوں نے اعتراض اٹھایا ہے کہ سڑک کی ساخت اور ایسفالٹ بچھانے سے پہلے بجلی کی تنصیبات کی منتقلی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تھا تا کہ بعد میں کھمبے ہٹانے سے سڑک پر جگہ جگہ گڑھے نہ بنیں اور عوام حادثات سے محفوظ رہ سکیں۔
کمال خان نامی ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ سڑک کی تعمیر کا طریقہ کار سندھ حکومت سے سیکھنا چاہیے۔
روڈ کیسے بنائے جاتے ہیں یہ کوئی سندھ گورنمنٹ سے سیکھے
جیے بھٹو۔ pic.twitter.com/hCN55NVH0D— Kamalkhan (@Kkinsafian) October 27, 2026
دوسری جانب میئر حیدرآباد کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو اور عوامی تحفظات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے تک سڑک کا منصوبہ تاحال غیر فعال اور زیرِ تعمیر ہے۔
صحافی غضنفر عباس کے مطابق، میئر کے ترجمان نے بتایا کہ منصوبے کے ماسٹر پلان کے تحت سڑک کے راستے میں آنے والے مجموعی طور پر 162 بجلی کے کھمبوں کو منتقل کیا جانا ہے، جبکہ 27 میں سے 10 بجلی کے فیڈرز کی منتقلی کا کام پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ منصوبے پر کام جاری ہے اور انہوں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سڑک کی مکمل تعمیر اور باقاعدہ افتتاح تک اس راستے کو آمدورفت کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔
حیدرآباد: زیرِ تعمیر سڑک پر بجلی کے کھمبے موجود ہونے کی ویڈیو وائرل
سڑک بنا دی، کھمبے ہٹانا بھول گئے؟ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو پر مئیر حیدرآباد کے ترجمان کی وضاحت
علمدار چوک تا اولڈ نیشنل ہائی وے سڑک تاحال زیرِ تعمیر ہے، ترجمان میئر
منصوبے کے تحت 162 بجلی کے کھمبے منتقل… pic.twitter.com/CRoViPONeN
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) October 28, 2026
تاہم سوشل میڈیا صارفین اور مقامی رہائشیوں نے موقف اختیار کیا کہ سڑک کی تعمیر کے دوران بجلی کے کھمبوں اور دیگر سروسز کی منتقلی کو اولین ترجیح بنایا جانا چاہیے تھا تاکہ عوام کو سفری مشکلات اور کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچایا جا سکے، کیونکہ اب کھمبے ہٹانے کی صورت میں نئی تعمیر شدہ سڑک کو دوبارہ اکھاڑنا پڑے گا۔









