بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی کے خلاف شیخ حسینہ اقوام متحدہ پہنچ گئیں

بنگلہ دیش(Bangladesh) میں نئی حکومت کے قیام کے باوجود سابق حکمراں جماعت عوامی لیگ کی سیاسی واپسی کا راستہ بند ہے لیکن اب بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کو انتخابات سے باہر رکھنے کا معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا ہے۔

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی جماعت پر پابندی کا نوٹس لیں اور ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کرنے اور نئے انتخابات کے لیے آواز اٹھائیں۔

بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے والے برطانیہ کے قانونی ادارے میٹرکس چیمبرز کی ویب سائٹ پر شائع تفصیلات کے مطابق، شیخ حسینہ نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کو ایک تحریری مراسلہ بھیجا ہے، جس میں بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر جاری پابندی کے حوالے سے سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق، عوامی لیگ پر پابندی ابتدا میں بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ نے عائد کی تھی، تاہم طارق رحمان کی قیادت میں قائم نئی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی حکومت نے اسے برقرار رکھتے ہوئے باضابطہ شکل دے دی۔ ان کا مؤقف ہے کہ پابندی برقرار رکھنے سے بنگلہ دیش کی بڑی تعداد سیاسی نمائندگی سے محروم ہو رہی ہے اور جمہوری عمل متاثر ہو رہا ہے۔

بی این پی فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات کے بعد اقتدار میں آئی تھی۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عوامی لیگ کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ بنگلہ دیش میں اس جماعت کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کے لیے نمایاں حمایت موجود تھی۔ شیخ حسینہ کے مؤقف کے مطابق، ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر رکھنے کے باعث انتخابی عمل آزادانہ، منصفانہ اور جامع نہیں رہا، جس سے نتائج کی قانونی و سیاسی حیثیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

مزیدپڑھیں: ‘روڈ بنانا کوئی سندھ حکومت سے سیکھے’: حیدرآباد کی انوکھی سڑک سوشل میڈیا پر وائرل

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش ایک ایسی آئینی صورت حال سے دوچار ہے جہاں جمہوری نظام کو مستحکم کرنے اور انتخابات کے انعقاد کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ایک بڑی سیاسی جماعت اور اس سے وابستہ تنظیموں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی قانونی اجازت نہیں۔ اس صورت حال کے باعث عوامی لیگ کے حامیوں کا ایک بڑا حصہ اپنی پسند کی جماعت کے ذریعے سیاسی نمائندگی حاصل کرنے سے محروم ہو رہا ہے۔

شیخ حسینہ کی جانب سے بھیجے گئے مراسلے میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ عوامی لیگ کے لیے بنگلہ دیش کی عدالتوں میں پابندی کو چیلنج کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ مراسلے کے مطابق، جماعت پر پابندی اور اس کے حامیوں پر جاری حملوں کے باعث وکلا کی خدمات حاصل کرنے اور قانونی شکایت کے ذریعے پابندی کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

مراسلے میں عوامی لیگ پر پابندی کو بین الاقوامی معاہدے برائے شہری و سیاسی حقوق کی چار دفعات سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔ ان میں دفعہ 19، جو آزادیٔ اظہار کا تحفظ کرتی ہے؛ دفعہ 21، جو پُرامن اجتماع کے حق کی ضمانت دیتی ہے؛ دفعہ 22، جو تنظیم سازی اور انجمن قائم کرنے کی آزادی سے متعلق ہے؛ اور دفعہ 25، جو سیاسی حقوق کی ضمانت دیتی ہے، شامل ہیں۔

مراسلے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پابندی عائد کرنے کے لیے جائز بنیاد، ضرورت اور تناسب کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، جبکہ متاثرہ فریق کے حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب ضمانتیں بھی موجود نہیں ہیں۔ اس میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ پابندی عوامی لیگ کے ارکان اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف جاری کارروائیوں اور حملوں کے وسیع تر تناظر کا حصہ ہے۔

شیخ حسینہ نے اقوام متحدہ کے جن تین ماہرین سے رجوع کیا ہے، ان میں دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ سے متعلق خصوصی نمائندہ، پُرامن اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندہ، اور جمہوری و منصفانہ عالمی نظام کے فروغ سے متعلق آزاد ماہر شامل ہیں۔

مراسلے میں ان ماہرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عوامی سطح پر بیان جاری کریں اور بنگلہ دیش میں ایسے انتخابات کی حمایت کریں جن میں تمام سیاسی قوتوں کو حصہ لینے کا موقع حاصل ہو۔ اس درخواست میں عوامی لیگ کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کو بنیادی تشویش قرار دیا گیا ہے۔

اس اقدام کے ذریعے شیخ حسینہ نے اپنی جماعت پر پابندی کا معاملہ بنگلہ دیش کے اندرونی سیاسی تنازع سے آگے بڑھا کر بین الاقوامی انسانی حقوق کے فورم پر اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اب اس معاملے میں اقوام متحدہ کے متعلقہ ماہرین کی جانب سے کسی ردعمل یا عملی اقدام کی تفصیلات سامنے آنا اہم ہوگا۔