وزیر خزانہ سینیٹر محمد اور نگزیب نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا 3 ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور ہوچکا ہے۔
سعودی عرب گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کو مالی معاونت فراہم کرتا آ رہا ہے۔ اکتوبر 2021 میں سعودی حکومت نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر جمع کرائے تھے۔
اس رقم کی مدت میں وقتاً فوقتاً توسیع کی جاتی رہی ہے۔ جون 2023 میں سعودی عرب نے پاکستان کو مزید 2 ارب ڈالر فراہم کیے جس سے اسٹیٹ بینک میں سعودی ڈپازٹس کی مجموعی رقم 5 ارب ڈالر ہوگئی۔
اس کے علاوہ سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کی خریداری کے لیے مؤخر ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کی۔ اپریل 2026 میں سعودی عرب نے مزید 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس رقم کی واپسی کی مدت میں حالیہ توسیع بھی اسی مالی تعاون کا حصہ ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ سعودی عرب نے قرضہ مزید مناسب مدت کے لیے رول اوور کیا ہے لہٰذا اب یہ معاملہ مناسب وقت تک کیلئے مؤخر ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ان کی سعودی وزیر خزانہ سے بہت اچھی میٹنگ بھی ہوئی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ جس طرح کے ہمارے تعلقات ہیں اس پر ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ سعودی عرب کی طرف سے مزید سپورٹ کی فی الحال ہمیں ضرورت نہیں ہے، ہم نے ہر سال تقریبا ڈیڑھ ارب یورو بانڈ کی ادائیگی کرنی ہے، ہماری کوشش ہے کہ یورو بانڈ کی ادائیگی کیلئے کوئی بھی انتظامیہ ہو اس کو مشکل پیش نہ آئے۔
مزید پڑھیں:محمد عامر بطور برطانوی کھلاڑی افغانستان پریمیئر لیگ کا حصہ بن گئے
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈ دسمبر میں پاکستان آسکتا ہے تاہم ابھی اس کی کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے۔








