لاہور(نیوز ڈیسک)وقار یونس کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے موقع پر کہ جب ان کی والدہ اور اہلیہ بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں وہ پی سی بی ہال آف فیم میں شمولیت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ درحقیقت پی سی بی ہال آف فیم کی یہ اعزازی پلاک اپنی والدہ سے وصول کرنا ان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کیونکہ وہ اپنی والدہ سے بہت متاثر تھے۔ ان کے بغیر وہ کرکٹ میں یہ سب حاصل نہ کر پاتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے خواب کی تکمیل تھا اور وہ آج بھی اس لمحے کو یاد کرکے پرجوش ہوجاتے ہیں ۔ اپنے آخری انٹرنیشنل میچ کے 19 سال بعد پی سی بی کی جانب سے یہ اعزاز دئیے جانے پر وہ بورڈ کے مشکور ہیں۔
وقار یونس نے کہا کہ ان کے لیے فخر کی بات ہے کہ وہ اس اعزاز کی وجہ سے آج عبدالقادر، فضل محمود، حنیف محمد، وسیم اکرم، جاوید میانداد اور ظہیر عباس جیسے عظیم کھلاڑیوں کی صف میں کھڑے ہورہے ہیں۔ یہ تمام کھلاڑی لیجنڈز ہیں اورتاریخ کرکٹ کے لیے ان کی خدمات کی لازوال داستانوں سے بھری پڑی ہے۔
پی سی بی بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے بعد پی سی بی ہال آف فیم کا آغاز اپریل 2021 میں ہوا۔ اس کا مقصد کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اعزازات سے نوازنا ہے۔
ابتدائی طور پر آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل پاکستان کے چھ ارکان، حنیف محمد، عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس اور ظہیر عباس براہ راست پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ بنےجبکہ آزاد ووٹنگ پینل نے عبدالقادر اور فضل محمودکو 16 اکتوبر 2021 کوپی سی بی ہال آف فیم میں منتخب کیا۔
Waqar Younis gets inducted into the PCB Hall of Fame!
⭐️#PAKvAUS l #BoysReadyHain pic.twitter.com/MDLsp6noz8— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) March 23, 2022









