حیدرآباد (نیوز ڈیسک) حکومت سندھ کے کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ، سندھ میں اربوں روپے کے لگائے گئےآر او پلانٹس غیرفعال، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ذرائع نے ”جنگ“ کو بتایا ہے کہ پلانٹس چلانے کیلئے 3ارب سے زائد کی رقم جاری کی جاچکی ہے، حیدرآباد سمیت دیگر اضلاع میں متعدد آر او پلانٹس بند پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے قومی خزانے کو خطیر نقصان پہنچا ہے، تفصیلات کے مطابق سندھ میں غیرسنجیدہ افسر شاہی نے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی ٹھان لی ہے، ماضی میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے حیدرآباد، تھرپارکر، میرپورخاص سمیت سندھ کے درجن سے زائد اضلاع میں اربوں روپے کی لاگت سے آر او پلانٹس کی تنصیب کی گئی تھی، محکمہ خزانہ کی جانب سے پلانٹس کی مرمت اور سامان کی خریداری سمیت دیگر اخراجات کے لیے مختلف اوقات پر مجموعی طور پر 3ارب 5کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کی گئی ہے جس میں ضلع حیدرآباد کے لیے 7کروڑ 29لاکھ روپے جاری کیے جاچکے ہیں، اسی طرح بدین، دادو، گھوٹکی، جامشور سمیت دیگر اضلاع میں آر او پلانٹس چلانے کے لیے بھی کروڑوں روپے کابجٹ جاری کیا گیا، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے مطابق بشمول ضلع حیدرآباد بیشتر اضلاع میں بڑی تعداد میں آر او پلانٹس برسوں سے بند پڑے ہوئے ہیں، جبکہ متعدد آر او پلانٹس کی مشینری مکمل طور پر زنگ آلود اور کباڑ ہوچکی ہے، اس ضمن میں حکومت سندھ غیرفعال آر او پلانٹس کو فعال بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے سے گریزاں ہے، محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت سندھ کی اجازت سے کروڑوں روپے کی رقم جاری کیے جانے کے باوجود آر او پلانٹس چلانے میں متعلقہ ادارے ناکام ہوگئے ہیں، اربوں روپے کی رقم کہاں خرچ ہوئی اس کا بھی تعین نہیں کیا گیا ہے۔
حکومت سندھ کے کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ، اربوں روپے کے لگائے گئے آر او پلانٹس غیرفعال








