بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

قطر سے رشوت لینے کا الزام، یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر سمیت 6افراد گرفتار

کراچی (نیوز ڈیسک) یورپی یونین کی تاریخ میں کرپشن کا سب سے بڑا کرپشن کیس سامنے آیا ہے اور پولیس نے قطر سے رشوت لے کر یورپی یونین کی پالیسی اور قانون سازی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے کے الزام میں یورپی پارلیمنٹ کی نائب صدر سمیت 6؍ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

برطانوی اخبار گارجین کی رپورٹ کے مطابق، برسلز میں پراسیکوٹرز نے تحقیقات کا عمل شروع کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ برسلز کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران 16؍ جائیدادوں کی تلاشی لی گئی، جبکہ 6؍ لاکھ یورو، کئی موبائل فونز، لیپ ٹاپز اور دیگر ساز و سامان ضبط کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ایک خلیجی ملک نے یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے عہدیداروں کو رشوت دے کر پالیسی سازی اور قانون سازی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی، اور ان عہدیداروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بیلجیم کے فیڈرل پراسیکوٹر کے مطابق، یہ یورپی یونین کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے جس میں نہ صرف رشوتیں لی گئیں بلکہ منی لانڈرنگ کے بھی الزامات شامل ہیں۔ یورپی فیڈرل پراسیکوٹر نے بعد میں خلیجی ملک کا نام قطر بتایا۔

رپورٹ کے مطابق، اگرچہ پراسیکوٹر کی جانب سے گرفتار شدگان کے نام نہیں بتائے لیکن ایک جوڈیشل ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ گرفتار شدگان میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن اور سوشل ڈیموکریٹ گریِک پاسوک پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون ایوا کیلی بھی شامل ہیں جو یورپی پارلیمنٹ کے 14؍ نائب صدور میں سے ایک ہیں۔ بعد ازاں یورپی پارلیمنٹ کے ایک نامعلوم رکن کے گھر پر بھی چھاپہ مار کر تلاشی لی گئی۔

خدشہ ہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں اسٹریٹجک اور سیاسی عہدوں پر موجود تھرڈ پارٹیز کے عہدیداروں کو بھاری رشوت دی گئی یا پھر انہیں بیش قیمت تحائف دیے گئے تاکہ پارلیمنٹ سے مخصوص فیصلے کرائے جا سکیں۔

قطر کے ایک عہدیدار نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم نے بین الاقوامی قوانین کے تحت کام کیا ہے، مبینہ دعووں سے قطری حکومت کے تعلق کی باتیں بے بنیاد اور غلط بیانی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایوا کیلی، جو پہلے ٹی وی پریزنٹر تھیں، نے گزشتہ ماہ فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہونے سے قبل قطر کے وزیر لیبر علی بن سمیخ المری سے ملاقات کی تھی۔

ایوا کیلی کے گھر سے گرفتاری کے وقت نقد رقم کی تھیلیاں برآمد ہوئی ہیں۔ اگرچہ الزامات کے بعد ان سے نائب صدر کا عہدہ لے لیا گیا ہے لیکن وہ اب بھی رکن پارلیمنٹ ہیں اور فی الحال انہیں فوجداری مقدمہ بازی سے استثنیٰ حاصل ہے۔