اسلام آباد(ممتاز نیوز )کے الیکٹرک نے مستقبل کی بجلی جنریشن ٹیرف کے لیے نیپرا میں پٹیشن دائر کردی۔ ٹیرف کی معیاد جولائی 2023 تا جنریشن فلیٹ کی قابل استعمال زندگی تک ہےجس میں چھ تھرمل پاور پلانٹس شامل ہیں۔
اس درخواست کے ذریعے کے۔الیکٹرک نے اپنے پاور پلانٹس کے لیے ایک ایسا ٹیرف تجویز کیا ہے جو ملک میں موجود آئی پی پیز (IPPs) کے ماڈل کے مطابق ہے جس کے تحت اخراجات Fixed اور O&M Variable کے ذریعے کی جاسکتے ہیں۔ اس اقدام کے ذریعے شفافیت بڑھے گی اور ٹیرف اسٹرکچر CTBCM کی ضروریات اور بہترین صنعتی اصولوں سے ہم آہنگ ہوسکے گا۔
ریگولیٹر نے کے۔ الیکٹرک کی جنریشن ٹیرف کی درخواست پر شراکت داروں سے رائے طلبی کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔ درخواست کی سماعت جلد ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
کے۔ الیکٹرک نے نجکاری کے بعد سے اپنی ویلیو چین میں 400 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے جس میں سے 203.9 ارب روپے کی سرمایہ کاری جنریشن کے شعبے میں کی گئی ہے۔ ہدفی سرمایہ کاری کی مدد سے کے۔ الیکٹرک نے جنریشن فلیٹ کو قابل اعتماد بنانے کے ساتھ اس کی دستیابی اور پیداواری صلاحیت میں کئی گنا اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کے۔ الیکٹرک کے جنریشن فلیٹ کی کارکردگی efficiency مالی سال 2005 کے 30 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2016 میں تقریباً 44 فیصد ہوگئی تھی۔ مالی سال 2016 سے کے الیکٹرک کی جنریشن فلیٹ کی reliability 96 فیصد سے بڑھ کر 99.5 فیصد ہوگئی جبکہ فلیٹ کی دستیابی 81 فیصد سے بڑھ کر 91 فیصد ہوگئی مزید براں Generation Capacity
1,875 میگاواٹ سے بڑھ کر 2,817 میگاواٹ ہوگئی جس میں 900 میگاواٹ کے بن قاسم پاور اسٹیشن III (بی کیو پی ایس III) کا اضافہ بھی شامل ہے۔
کے الیکٹرک کا تعارف
کے۔ الیکٹرک ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے، جس کا قیام پاکستان بننے سے قبل 1913 میں کے ای ایس سی کے طور پر عمل میں آیا۔ 2005 میں کمپنی کی نجکاری کی گئی۔ کے۔ الیکٹرک پاکستان کی واحد عمودی طور پر مربوط یوٹیلیٹی ہے، جو کراچی اور اس کے ملحقہ علاقوں سمیت 6500 مربع کلومیٹر علاقے کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے 66.4 فیصد حصص پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں لسٹڈ ہیں اور کے ای ایس پاور کی ملکیت ہیں۔ یہ سرمایہ کاروں کا ایک کنسورشیم ہے، جس میں سعودی عرب کی الجومعہ پاور لمیٹڈ، کویت کا نیشنل انڈسٹریز گروپ (ہولڈنگ) اور انفرا اسٹرکچر اینڈ گروتھ کیپٹل فنڈ (آئی جی سی ایف) شامل ہیں۔ کے۔ الیکٹرک میں حکومت پاکستان کے بھی 24.36 فیصد حصص ہیں۔









