بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جنرل باجوہ کے باوجود نوازشریف نے موجودہ آرمی چیف کی تقرری میں اہم کردارادا کیا، سینیٹر عرفان صدیقی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستانی سینئر ن لیگی رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نےانکشاف کیا کہ سینیارٹی لسٹ میں جنرل عاصم منیر نمبر ایک پر تھے۔ نوازشریف نے کہا کہ نمبر ایک پر جو بھی ہے، اسے آرمی چیف بنا یا جائے۔ جنرل باجوہ موجودہ آرمی چیف کی تقرری کے حامی نہیں تھے اور انہوں نے اپنے پسندیدہ امیدوار کے بارے میں خاصا دباؤ بھی ڈالا تھا۔ لیکن میاں نواز شریف نے یہاں سٹینڈ لیا اور کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کا ہے جو دیگر جماعتوں سے مشاورت سے استعمال کریں گے۔ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں انتخابی اتحاد خارج از امکان ہے۔نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ نوازشریف کی دوبئی آمد کے بعد مریم نواز، آصف زرداری اور بلاول بھٹو بھی دبئی پہنچ چکے ہیں۔سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ محترمہ بےنظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی سیکرٹری ناہید خان کو کہاکہ میری فون پر نواز شریف سے بات کرائیں لیکن کسی وجہ سے وہ بات نہیں ہوسکی۔ اب دوبئی میں نوازشریف، مریم نواز، آصف زرداری اوربلاول موجود ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی تلخ تاریخ کے ساتھ ساتھ مثبت تاریخ بھی ہے جو شروع ہوتی ہے میاں نواز شریف کے دوسرے دور سے جب محترمہ بینظیر بھٹو قائد حزب اختلاف تھیں۔انہوں نے کہا کہ پھر تیرہویں اور چودھویں ترامیم ہوئیں۔ پھر میثاق جمہوریت ایک بہت بڑی پیش رفت تھی۔ بہت سے لوگوں کو علم نہیں کہ میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان بہت اچھے مراسم قائم ہوگئے تھے۔نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک بھیجنے کے حوالے سے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ نواز شریف کی جو بیماری سامنے آئی، اس پر اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اپنے اعتماد کے ڈاکٹرفیصل کو انکوائری پر لگایا اورانہوں نے بھی نواز شریف کی شدید بیماری کی تصدیق کی اور کہاکہ اس کو سیاسی ایشو نہیں بنانا چاہیے تھے۔ جیل میں پڑے پڑے ان کی صحت کے کئی مسائل پیدا ہوگئے تھے جس پر فوجی قیادت کو بھی تشویش تھی سو کہا جاسکتا ہے کہ یہ فوج اور اس وقت کی حکومت کا مشترکہ فیصلہ تھا۔سینیٹر عرفان صدیقی نے انکشاف کیا کہ نومبر 2022 میں تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف کے عہدے پر ایک اور ایکسٹینشن دینے پر آمادہ ہوگئی تھیں لیکن جب یہ پیغام سابق وزیراعظم نواز شریف تک پہنچا تو نواز شریف اس فیصلے کے سامنے دیوار بن گئے۔ میاں نواز شریف نے خود مجھے بتایا کہ ایکسٹنشن کے لئے حکومت کو دھمکیاں بھی ملیں اور کہا گیا کہ مارشل لاء بھی لگ سکتا ہے لیکن نواز شریف اپنی بات پر قائم رہے۔انہوں نے بتایا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ اس دوران ‘سمری آرہی ہے، نہیں آرہی ہے’ ایسی کہانیاں بھی چلتی رہیں لیکن میاں نواز شریف کا فیصلہ اٹل رہا۔ایک سوال پر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان انتخابی اتحاد خارج از امکان ہے۔