بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کا جنسی استحصال،انوشے اشرف کھل کر بول پڑیں

کراچی(شوبز ڈیسک)پاکستانی معروف ماڈل و اداکارہ اور ریڈیو ہوسٹ (آر جے) انوشے اشرف نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ شوبز  انڈسٹری میں آئیں،تو تب بھی  غیر فلمی پس منظر یا متوسط ​​طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو منظم طریقے سے ہراساں کیا جاتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اداکار ہ انوشے اشرف خواتین کو ہراساں کرنے، ریپ واقعات اور گھریلو تشدد جیسے مسائل پر کھل کر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اداکارہ نے ماضی میں  بھی خود کو ہراساں کیے جانے سے متعلق ٹوئٹس کر چکی ہیں۔اداکارہ انوشے اشرف نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ”انہیں دیگر  خواتین کے ساتھ ہونے والے  جنسی استحصال کے  واقعات دیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ انھیں بھی ایسے ہی واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔”اداکارہ نے بتایا کہ  “کیریئر کے آغاز میں، انہیں  ” می ٹو” تحریک کا مطلب نہیں سمجھتی تھیں، لیکن جب خواتین نے اسی تحریک کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ہراساں کیے جانے کے واقعات کو بیان کیا تو انہیں اس کا مفہوم سمجھ آیا۔”

انوشے اشرف کے مطابق “می ٹو” تحریک اور حقوق نسواں کی تحریک بنیادی طور پر خواتین کی آوازیں ہیں جو ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر روشنی ڈالتی ہیں۔ اداکار ہ نے بتایا کہ” جب خواتین نے کھلے عام جنسی ہراسانی کے واقعات پر بات کرنا شروع کی تو اسے احساس ہوا کہ اس نے بھی ایسے واقعات کا سامنا کیا ہے جن میں اپنے بچپن میں جنسی ہراسانی کے واقعات بھی شامل ہیں۔انوشے اشرف نے بچپن میں کیے گئے استحصال سے متعلق مزید وضاحت نہیں کی”۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ “ایسے واقعات تقریباً ہر خاتون یا لڑکی کے ساتھ ہوتے ہیں۔” ماڈل و اداکارہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ جب وہ شوبز میں آئیں تب انہوں نے انڈسٹری میں کئی خواتین  کو ہراساں ہوتے دیکھا۔انوشے اشرف نے روشنی ڈالی کہ ماضی میں شوبز میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کیا جاتا تھا جس میں سڑکوں پر روکا جانا اور ہراساں کیا جاتا تھا لیکن اب سوشل میڈیا کے آنے سے انہیں آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماضی کی عکاسی کرتے ہوئے، انہوں نے بتایا کہ غیر فلمی یا اوسط اور غریب پس منظر کی خواتین کو ہراساں کیا جاتا تھا، ان کا استحصال کیا جاتا تھا اور انہیں کم معاوضہ دیا جاتا تھا۔

اگرچہ انوشے اشرف نے شوبز انڈسٹری میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے حوالے سے بات کی لیکن انہوں  نے کسی خاص نام کا ذکر نہیں کیا اور انھیں ہراساں کرنے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ انوشے اشرف کے مطابق ماضی میں شوبز میں کام کرنے والی خواتین کو گلی محلوں یا اور سڑکوں پر روک کر ہراساں کیا جاتا تھا اور اب آئے دن سوشل میڈیا پر ان پر تنقید کی جاتی ہے۔ اداکارہ نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ شوبز میں غیر فلمی گھرانوں یا متوسط اور غریب گھرانوں کی خواتین کو باقاعدگی سے چھیڑا جاتا، ان کا استحصال کیا جاتا، انہیں کم اجرت دی جاتی تھی۔ اگرچہ انوشے اشرف نے شوبز میں خواتین کے جنسی استحصال پر بات کی، تاہم انہوں نے کسی بھی خاتون کا نام نہیں لیا اور نہ ہی انہوں نے ہراساں کرنے والے افراد کا نام لیا۔

ماضی میں بھی انوشے اشرف نہ صرف شوبز بلکہ ملکی سماج میں بھی خواتین کے استحصال کے خلاف بات کرتی آئی ہیں اور انہیں خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔